خطابات نور — Page 75
کرنے کو تو خود اس کے منہ سے کچھ سننا چاہئے اور یہ اس کی صحبت سے معلوم ہوگا۔تم نے مولویوں کو ناراض کیا۔سجادہ نشینوں کو چھوڑا اور اکثروں کو یہ مشکلات بھی پیش آئیں کہ ان کو اپنے بعض رشتہ داروں یا عزیزوں سے قطع تعلق کرنا پڑا۔یہ سب کچھ سہی لیکن اگر اس غرض کو معلوم نہ کیا جس کے لئے یہ چھوڑا ہے تو کیا فائدہ !اپنے آپ کو مشکلات میں تو ڈال لیا مگر غور تو کرو کہ کس قدر ہیں جو یہاں رہ کر قرآنِ شریف سیکھیں ‘علمی اور عملی تفسیر کا یہاں کے سوا کہیں موقع نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا مامور یہاں موجود ہے۔میں سچ کہتا ہوں میرے دل میں یہ تڑپ اور جوش ہے اور رہتا ہے کہ میرے بھائی سمجھ دار اور ذہین یہاں رہیں اور قرآن شریف کے علوم حقّہ کو سیکھیں اسی طرح پر جس طرح پر صحابہؓ مدینہمیں رہ رہ کر سیکھتے اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کو تبلیغ کرتے اور ان کی اشاعت میں مصروف رہتے۔۱۱؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رہنے کی کس قدر ضرورت ہے۔کیونکہ جب تک یہاں نہ رہے تو انوار شریعت اور مغز قرآن جو یہاں پیش کیا جاتا ہے اس سے اطلاع کیونکر ہو؟ یہاں نہ رہنے ہی کی وجہ سے آداب النبی کے خلاف بعض اوقات ہمارے بھائی حضرت اقدس سے دعا کے لئے لکھتے ہیں۔ننانوے فیصدی ایسے خطوط دعا کے لئے آتے ہیں جن کو دعا کرانے کی حقیقت سے خبر نہیں ہے اور اگر ان کو اس راز پر اطلاع ہو تو ان کا قلم کانپ جاوے اور کبھی ایسی درخواستیں کرنے کی جرأت نہ کریں۔کیا دنیادار کے رنگ میں کوئی شخص بطور خود یہ تجویز ملکہ معظمہ کو کرسکتا کہ مجھے فلاں جگہ کا گورنر یا عہدہ دار بنادے؟ ایسے آدمی کو نادان نہ کہا جائے گا؟ دعا ایک عجیب برکت اپنے ساتھ لاتی ہے اور اس سے بڑے بڑے عقدے حل ہوتے ہیں مگر دعا دعا ہو۔جب تک اس میں وہ زینت اور خوبصورتی پیدا نہ ہو جو اس کے لوازمات ہیں اس کا کوئی اثر نہیں۔سچا اضطراب ہو۔کامل تبدیلی کی جاوے۔رعایت آداب الدعا ہو۔خشوع و خضوع کے ساتھ اعلائے کلمۃ الاسلام کے لئے دعا کی جاوے۔پھر باب اجابت اس کے لئے جلد کھولا جاتا ہے اور دنیوی برکات بھی اس کے ساتھ ہی آتی ہیں۔