خطابات نور — Page 508
قرآنی قسموں کی حقیقت {تقریر فرمودہ ۱۷؍ جون۱۹۱۲ء قبل ازنماز مغرب بمقام امرتسر} لاہور سے واپسی پر چند گھنٹہ کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح نے جون ۱۹۱۲ء کو امرتسر قیام فرمایا۔امرتسر کے قیام میں آپ کی غرض صرف یہ تھی کہ وہاں کی جماعت کو خصوصیت سے کچھ نصائح کریں جو باہمی اتحاد اور اصلاح حالت پر مبنی ہو مگر جماعت امرتسر کی بدقسمتی کہ وہ ان قیمتی ہدایتوں سے محروم رہی۔ان کے لئے یہ ایک فضل تھا کہ ان کا امام سخت گرمی میں باوجود اس ضعف اور پیرانہ سالی کے ان کے گھر گیا مگر وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔بعض لوگوں سے تو ایسی حرکت سرزد ہوئی جو میرے اپنے ایمان کے موافق سخت بیہودہ اور خلاف ادب مرشد ہے۔انہوں نے (الجمعۃ:۱۲) کا نمونہ دکھایا۔امرتسر کے وہ لوگ جو اس نوٹ کو پڑھیں وہ انہیں نصحِ دینی کے لئے سمجھائیں کہ وہ استغفار کریں اور صدقہ دیں ورنہ اندیشہ ہے کہ ایسے لوگ کسی دکھ میں مبتلا ہوں یا ایمانی رنگ میں نقصان اٹھائیں۔اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔آمین بہر حال حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں بعض غیر احمدی لوگوں کی تحریک پر ایک تقریر کے لئے عرض کیا گیا تو آپ نے قبل مغرب جبکہ عصر کی نماز سے فارغ ہوچکے تھے سورۃ عصر پر وعظ فرمایا۔(ایڈیٹر) میرے دوستوں نے مجھے کچھ وعظ کہنے کے لئے فرمائش کی ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی توفیق دی ہے کہ تم لوگوں کو کچھ سنادوں۔میں اترا بھی اسی غرض سے ہوں کہ کوئی آدمی کوئی بات سن لے اور اللہ تعالیٰ نفع دے۔ (العصر:۱تا۴) یہ ایک چھوٹی سی سورۃ ہے اور میں نے اسی نظارہ پر اس کو پڑھا ہے کہ اس میں عصر کا ذکر آتا ہے