خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 501 of 660

خطابات نور — Page 501

مستقل چیز نہیں۔بلکہ نبوۃ محمدیہ کا ایک پھل اور نتیجہ ہے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بخاری میں اس کا نام نبی اللہ رکھا۔پھر جزاوسزا کو بھی ہم مانتے ہیں۔نمازیں اسی طرح فرض جانتے ہیں جس طرح مسلمانوں میں پیشتر سے فرض ہیں۔اسی طرح زکوٰۃ، حج اور رمضان کے روزہ کو اسی طرح فرض جانتے ہیں جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھ کر دکھادئیے۔باوجود ان باتوں کے جو ہمیں کافر کہتے ہیں۔ہم یہ ان کی نعمت کفر اُن کو ہی واپس کرتے ہیں تم ہی رکھو یہ ہمارے کام کی چیز نہیں۔ہم اس امر میں ابتدا نہیں کرتے۔اگر مرزا صاحبؑ کو خدا کا مامورومرسل ماننے سے تم ہم کو کافر بناتے ہو تو تم خود سوچ لو کہ ایک مامور مرسل کے انکار سے تم کیا بن سکتے ہو۔کفر تو نہ ماننے کا نام ہے ماننے والے تو مومن ہی کہلاتے ہیں۔غرض  کے مقابل میں جب انسان بے جا عداوت کرتا ہے اور علم کے بعد عمل نہیں کرتا تو ہوجاتا ہے۔پس میں تمہیں جو مرزا صاحبؑ کو نہیں مانتے کہتا ہوں کہ مرزا  کا مصداق ہے تم اس سے بے جا عداوت کرکے  نہ بنو۔اس نعمت کی قدر کرو۔پہلے انکار کرنے والوں نے کیا پھل پایا جو تم امید کرتے ہو اور تم جو مرزا صاحبؑ کو مان کر مخالف مولویوں کے منہ سے اور ان کے اتباع سے عام لوگوں سے کفر کا فتویٰ بھی سنتے ہو اور پھر اس نعمت اور سچائی کی اطلاع رکھ کر علم کے موافق عمل نہیں کرتے ہو تو اندیشہ ہے کہ تم بھی نہ بن جائو۔پس نہ ماننے والے خدا تعالیٰ کے اس مامور کے انکار سے ہوجائیں گے اور ماننے والے اگر عمل نہ کریں گے تو وہ بھی خطرہ سے خالی نہیں۔اس لئے ڈرنے کا مقام ہے۔مجھے تعجب ہے کہ تمہارے اس شہر میں کل مذاہب کے لوگ ہیں۔دہریہ گوروبھگوان کی باضابطہ ایک جماعت ہے ان کی کتابیں اور رسالے شائع ہوتے ہیں۔ایک اخبار جاری ہے۔آرین سناتن، سکھ، براہمو، شاکت سب موجو د ہیں۔یہ شاکت لوگ ایک وقت گائے کا گوشت بھی کھاسکتے ہیں۔میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ انہیں شاکت لوگوں میں ایک شخص نے دو سو آدمی کا کھانا پکایا۔آدمی زیادہ تھے۔گرو سے جب کہا گیا تو اس نے کہا کہ کچھ حرج نہیں میں نے سمجھا کہ کوئی کرامت