خطابات نور — Page 498
نہیں کام لیتا ہے۔ایتھر کی لچک سے بڑے بڑے کام نکالتا ہے۔بڑی بڑی آفتوں کے علاج سوچتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کی ایک جماعت ہے۔ایک بیمار تندرستی کے انعام کو چاہتا ہے۔مقدمہ باز مقدمہ جیتنے کا، مفلس مفلسی کے دور ہونے اور آسودگی، محب حصول محبوب کے لئے کوشش کرتا ہے۔غرض ہر شخص مختلف انعام چاہتا ہے اور انعام اس قسم کی چیز ہے کہ انسان اس کو گن نہیں سکتا۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ انسان پر بڑے بڑے انعام کئے ہیں۔اس دعا کا سلسلہ اس واسطے بڑا وسیع ہے۔مفلس آرام ودولت چاہتا ہے۔پورٹ بلیروالا چاہتا ہے کہ ایسی تقریب پیدا ہو کہ واپس آجائو۔تاجر بڑا منافع چاہتا ہے۔زمیندار چاہتا ہے زمین آباد ہو جائے غرض کے نیچے سارا جہان چلتا ہے کسی کی اولاد ہے ہزاروں مصیبتیں کھڑی ہیں لڑکا نیک ہو‘ بدکار نہ ہو۔ایسی جگہ شادی ہو کہ لڑکی نیک اور تندرست ہو پھر اس کی اولاد نیک ہو بڑھاپے میں آرام پائوں۔کس قدر مطالب ایک ایک چیز سے وابستہ ہیں۔پھر خود انسان کی اپنی حالت پر غور کریں تو کس قدر اعضاء بدن میں ہیں ہر ایک عضو نشوونما کا محتاج ہے۔پٹھوں کی کثرت کی انتہا نہیں یہ سب کی صحت چاہتا ہے۔ایک انعام انبیاء، صدیق، شہداء اور صالحین پر ہوتا ہے۔اس کا بھی محتاج ہے پھر کبھی یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے انعامات کے سلسلہ میں کوئی مصیبت آجاتی ہے۔مثلاً لڑکا بااقبال ہو‘ آسودہ اور معزز ہو۔وہ کسی بیماری یا مقدمہ میں مبتلا ہو جاتا ہے تب ساری خوشی غم سے مبدل ہو جاتی ہے۔سارا گھر اسی سے وابستہ ہے اس لئے سب حیران۔غرض انسان انعامات کا محتاج ہے بڑے بڑے متکبر جنہوں نے خدا تعالیٰ کی ہستی نہیں مانی گھبرا کر وہ بھی انعام ہی چاہتے ہیں لیکن جیسا کہ ابھی اوپر کہا ہے کہ بعض وقت انعامات میں ایک تکلیف پیدا ہوجاتی ہے۔اس دعا کی تکمیل اس طرح پر فرمائی کہ (الفاتحۃ :۷) مغضوب وضال: ہم منعم علیہ تو ہو جاویں مگر انعام پا کر مغضوب اور ضال نہ بن جاویں۔مغضوب اور ضال کس کو کہتے ہیں؟ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ سچائی کو خوب جانتے ہیں۔برہمو لوگوں سے پوچھو تو وہ کہتے ہیں کہ ساری سچائیوں کا علم انسان کے