خطابات نور — Page 464
ہے۔طب کے لحاظ سے جو ۲۰/ ۱ مجھے آتی ہے میں بتاتا ہوں۔۲۰/ ۱ میں نے اس لئے کہا کہ کچھ حصہ تو ڈاکٹر لے گئے جو سرجری کے متعلق ہے اور کچھ عورتوں اور بوڑھیوں کے حصہ میں آئی کچھ دائیوں اور حلوائیوں کے حصہ میں آئی ہے کچھ کمانگروں، عطائیوں، کنجروں اور کنجریوں اور پہلوانوں کے حصہ میں آئی ہے۔۲۰/۱ ہمارے حصہ میں بھی آیا ہے۔اس طب کی رو سے میں کہتا ہوں کہ اس وقت بعض غشی کی حالت میں ہوتے ہیں گھر والے کہتے ہیں حضور اس قدر روپیہ دیتے ہیں صرف ایک بات کرا دو۔مگر وہ ایک بات بھی نہیں کر سکتے۔فہم بھی باقی نہیں رہتا تمام حواس اور طاقتیں زائل ہونے لگتی ہیں۔بڑی بڑی پیاریاں آتی ہیں۔ماں کہتی ہے۔بیٹا! تم پہچانتے ہو میں کون ہوں۔بہن کہتی ہے بھائی میں کون ہوں وہ منہ بھی ادھر نہیں کرتا۔آنکھ جواب دے دیتی ہے اور کان کام نہیں کرتے جبکہ انسانی زندگی کا ہر لمحہ موت کے قریب کر رہا ہے اور حکم یہ ہے کہ مسلم مرو ،تو انسان کو چاہئے کہ اس کی تیاری کرے اس تیاری کے لئے قرآن مجید نے ایک راہ بتائی ہے کہ متقی بنو۔سلسلہ علّت معلول: آج جو کام کر رہے ہیں اس کی کل تیاری کی تھی اور آج جو کر رہے ہیں یہ کل کی تیاری ہے یہ سلسلہ حکماء نے نامتناہی مانا ہے بات وہ بھی پتا کی کہتے ہیں۔مثلاً غور کرو ہم کل یہاں آئے کیوں؟ ایک عمارت کی ایک اینٹ رکھنی تھی۔ایک شخص متمول ہو پھر وہ تاجر ہو‘ لاہور کا باشندہ ذی وجاہت ہو‘ ہمارے ساتھ اس کا تعلق ہو۔وہ ایک عمارت بنوائے اس عمارت میں قوم کا بھی حصہ ہو اور پھر اس نے کہا کہ آکر دعا کرو۔تو ہم آگئے۔ہمارا یہاں آنا کس قدر اسباب اور نتائج کا سلسلہ رکھتا ہے پھر وہ قوم جس کا اس کی عمارت میں حصہ ہے کیونکر بنی؟ ایک مرزا (علیہ السلام) آیا اس نے لوگوں کو نصائح کیں اور اشتہار دئیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ومرسل ہو کر آیا ہے۔اس تاجر نے اس کو قبول کیا اور اس کی وفات کے بعد اس نے ہمارے ساتھ تعلق کو قائم رکھا۔مرزا صاحب نے ایسا کیوں کیا۔پھر یہ بے انتہا اسباب اور نتائج کا سلسلہ ہے۔غرض ان اسباب کے ماتحت ایک بات ہوئی کسی نے تم کو خط لکھے تم آگئے۔پھر تمہارے آنے کے مختلف اغراض ہیں کوئی اس لئے آگیا کہ اس تقریب پر میں کیا کہتا ہوں اسے سن