خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 438 of 660

خطابات نور — Page 438

(اٰل عمران :۱۰۴)۔اللہ کا فضل یاد کرو جب کہ تم باہم اعدا ء تھے۔نظارہ تفریق: اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں محبت پیدا کر دی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم باہم بھائی بھائی ہو گئے۔تم خود غور کرو تم جو یہاں موجود ہو سب کے ذوق الگ سب کی طرز کلام اور طریق بیان جدا، شکلیں الگ اور زبانیں الگ ہیں اور تمہارے لباس ایک دوسرے سے نہیں ملتے ،پگڑیوں کے رنگ ان کے باندھنے کے طریق سب جدا جدا ہیں۔اکبر کے زمانہ میں بڑی خوبصورت پگڑیاں باندھنے کا طریق تھا ایک پگڑی سیدھی سادھی نور دین کی سی تھی دربار میں اس سے کہا گیا کہ تم کو پگڑی باندھنی نہیں آتی؟ اس نے کہا کہ مجھے تو آتی ہے یہ باقی عورتوں سے بندھوا کر لائے ہیں اگر انہوں نے آپ باندھی ہیں تو پھر بندھوا کر دیکھ لو۔چنانچہ جب ان کو حکم دیا گیا تو نہ باندھ سکے کیونکہ گھر میں تو بڑے تکلف اور آئینہ سامنے رکھ کر باندھا کرتے تھے۔عورتوں سے مراد نفس ہی لے لو۔غرض اس وقت بھی پگڑیوں کی بندش ان کے رنگ اور ململوں اور لمبائی چوڑائی سب باتوں میں فرق ہے۔یہ اختلاف اور فرق دور تک چلتا ہے ایک خالق ہے ہم سب مخلوق ہیں پھر اختلاف ہے ایک مرد ہے ایک عورت دونوں کے کام الگ ہیں۔ہر ایک کے اعضاء میں فرق ہے۔باوجود اس اختلاف کے پھر وہ اتحاد چاہتے ہیں جب ان کا اختلاط ہوتا ہے تو پھر وہ کسی اور کے خواہشمند ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی بچہ ہو جاوے۔ہمیں بھی خطوط آتے ہیں کہ دعائیں کرو کسی نے اپنے بچہ کا نام غلام مرزا رکھا مگر وہ زندہ نہ رہا۔غرض اکیلا ہو کر بیوی چاہتا ہے اس کے آنے پر پھر اولاد چاہتا ہے پھر اولاد کی شادی پھر ان کی اولاد کی خواہش کرتا ہے۔اختلاف ہے تو کتنا اتحاد ہے تو کس حد تک۔یہ تمام اختلافات اللہ تعالیٰ کی ہستی کے دلائل ہیں خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (الرّوم :۲۳) فی الحقیقت اگر ایک ہی قسم کے چہرے ہوتے اور ایک ہی قسم کی آوازیں قدوقامت ہوتے تو کیسا دکھ اور مصیبت ہوتی دوست دشمن بیوی بہن میں تمیز نہ ہو سکتی۔اختلاف مثمر ہونے کے لئے وحدت چاہتا ہے: پس اختلاف جہاں بہت ہی مفید ہے وہاں باوجود اختلاف کے وحدت کے نظام کو چاہتا ہے تب یہ نتیجہ خیز اور مثمر ہو سکتا ہے۔میں دیکھتا ہوں ایک دوات ہے وہ آسٹریا،چائنا یا انگلینڈ یا امریکہ سے بن کر آتی ہے۔پھر سیاہی اور