خطابات نور — Page 407
جاتا ہے۔اوّل تو اس غلطی سے کہ کیوں مجھے عہدہ دار نہ بنایا۔میرا اپنا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت صاحب کی لڑکی حفیظہ (امۃ الحفیظ) کو امام بنا لیتے تو سب سے پہلے میں بیعت کر لیتا اور اس کی ایسی ہی اطاعت کرتا جیسی مرزا کی فرمانبرداری کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتا کہ اس کے ہاتھ پر بھی پورے ہو جائیں گے۔اس سے میری غرض یہ بتانا ہے کہ ایسی خواہش نہیں ہونی چاہئے۔غرض کبھی اس قسم کی مشکلات آتی ہوں گی پس پہلی نصیحت یہ ہے اور خدا کے لئے اس کو مان لو۔اللہ کہتا ہے۔(الانفال :۴۷)۔اس منازعت سے تم بودے ہو جائو گے اور تمہاری ہوا بگڑ جائے گی پس تنازعہ نہ کرو اللہ تعالیٰ چونکہ خالق فطرت تھا اور جانتا تھا کہ جھگڑا ہو گا اس لئے فرمایا (الانفال :۴۷)۔پس جب سیکرٹری اور پریذیڈنٹ سے منازعت ہو تو اللہ تعالیٰ کے لئے صبر کرو۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبر کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے ساتھ ہو گا۔میرا حق ہے کہ میں تم کو نصیحت کروں تم نے عہد کیا ہے کہ تمہاری نیک بات مانیں گے اس لئے میں کہتا ہوں کہ یہ مان لو۔قطعاً منازعت نہ کرو۔جہاں منازعت ہو فوراً جناب الٰہی کے حضور گر پڑو۔میں نے ابھی کہا ہے کہ اگر حفیظہ کو امام بنا لیتے تو اس کی بھی مرزا صاحب جیسی ہی فرمانبرداری کرتا۔پس تم مشکلات سے مت ڈرو۔مشکلات ہر جگہ آتی ہیں میرے اوپر بھی آئیں اور بڑی غلطی یا شوخی یا بے ادبی بعض آدمیوں سے ہوئی۔اب ہم نے درگزر کر دیا ہے مگر انہوں نے حق نہیں سمجھا کہ کیا امامت کا حق ہوتا ہے؟ یہ بھی کم علمی کا نتیجہ ہوتا ہے جو انسان حقوق شناسی نہ کرے مگر اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا ان کے دلوں کی آپ اصلاح کر دی اور دل اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں تھے۔اس نے سب کو میرے ساتھ ملا دیا اور ان پر اور ہم پر اور ہماری قوم پر رحم اور احسان ہوا۔غرض ایک یہ یاد رکھو کہ تنازعہ نہ ہو۔نہ آپ کرو نہ ماتحتوں کو کرنے دو۔اللہ تعالیٰ نے ایسے موقع پر صبر کی تعلیم دی ہے۔دوسرے بعض جگہ جہاں کثرت سے لوگ ہیں وہاں میں دیکھتا ہوں ترقی رک گئی ہے اس کا کوئی مخفی راز ہے۔میں اس کو جانتا ہوں اس کی تلافی دو طرح ہو سکتی ہے ایک یہ کہ