خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 406 of 660

خطابات نور — Page 406

تب میں نے اس کو کہا کہ کیا تو جانتی ہے کہ اس جہاں کا پیدا کرنے والا بھی کوئی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ پڑھے لکھے لوگ ہی جانتے ہوں گے۔اس پر میں نے اس کو کہا کہ تم جو مرزا صاحب کے پاس آئی اور سو روپیہ نذر دیا، کیا سمجھ کر آئی ہو؟ اس نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ وہ اچھے آدمی ہیں۔اس سے تم اندازہ کر لو کہ بعض لوگ کیسے نافہم ہوتے ہیں۔ہر قوم میں ایسے لوگ ہوتے ہیں اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے‘ ان کو علم ہوتا ہے فہم ہوتا ہے، وہ اللہ ربّ العالمین کو جانتے ہیں۔محمد رسول اللہ خاتم النبیین کو سمجھتے ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور اس کے پیاروں کو پہچانتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہوتا ہے اور خاص احسان ہوتا ہے۔جن پر اللہ کا احسان ہے ان کے لئے قرآن شریف میں فرمایا:۔ (القصص :۷۸) یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تم بھی احسان کرو۔تم پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے تم کو جاہلوں سے نہیں بنایا اور نافہم نہیں بنایا۔نافہمی کا وہ نمونہ یاد رکھو کہ وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام تک سے ناواقف اور اخلاص ایسا کہ سو روپیہ دے دیا۔پس تم خدا کا شکر کرو کہ اس نے تم پر احسان کیا اس کا شکر یہ ہے کہ جو تم نے پاک تعلیم سنی ہے اسے مخلوق کو پہنچائو۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ کام بہت ہی بڑا ہے۔میرے کسی وہم یاگوشہ خیال یا تخیلات شاعرانہ میں بھی نہیں آیا تھا کہ میں کسی جماعت کا امام بنوں۔یہ بات میرے وہم وگمان سے وراء الوراء تھی بلکہ میرے شاگرد جانتے ہیں جنہوں نے مجھ سے کچھ پڑھا ہے۔ایک حدیث ہے اس کا مطلب اور ہی سمجھتا تھا اب تو اور سمجھتا ہوں۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریشیوں کی سلطنت میں زوال نہ ہو گا جب تک دو بھی ہوں۔میں قریشی تھا اور مرزا کا سچے دل سے مرید ہوا۔ہمارے جد بزرگوار میں فرخ شاہ ایک بزرگ کابل میں گزرا ہے۔درہ فرخ شاہ اب تک بھی اس کے نام سے ہے۔اس نے سلطنت جان بوجھ کر چھوڑی اور تخت سے اُتر کرچبوترہ پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔اب بھی میری قوم کے آدمی یا غستان میں شاہزادے کہلاتے ہیں۔تو میرے تو وہم میں بھی نہ تھا کہ میں کسی جماعت کا امام ہوں گا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ایک آن کی آن میں مجھے امام بنا دیا اور ایک قوم کا امیر بنا دیا۔تم سیکرٹری لوگ ہو‘ پریذیڈنٹ بھی ہیں تمہیں کبھی کبھی مشکلات پیش آجاتے ہوں گے اور پھر اس سے عناد بڑھ