خطابات نور — Page 389
نے مفصل اپنے عقیدہ کو بیان کیا اور تمام مذاہب پر ریویوکر گیا۔کہا کہ لوگ واقعات عالم سے ثبوت لیتے ہیں ہم تو عالم ہی کو نہیں مانتے اس واسطے کسی کا رعب ہم پر نہیں پڑتا۔خدا تعالیٰ نے اس وقت مجھے ایک عجیب جواب سمجھایا اورمیری ،اس کی اس طرح سے گفتگو ہوئی۔میں: آپ کیا کام کرتے ہیں۔میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔وہ: ایک دفتر میں ملازم ہوں۔میں: آپ کا دفتر کہاں ہے۔وہ : انار کلی کے پرلے سرے پر۔کوڑی باغ میں۔میں: آپ کس وقت دفتر جاتے ہیں۔وہ: دس بجے جاتا ہوں۔میں: آپ کس راستہ سے دفتر جایا کرتے ہیں۔وہ: انارکلی کے راستہ سے۔میں: جب آپ کے مذہب میں انار کلی ،راوی ،شاہدرہ ، شال مار سب ایک ہی ہیں اور کسی کو نہیں کہہ سکتے کہ یہ انار کلی ہے یا شاہدرہ ہے کیونکہ ممکن ہے وہ راوی ہو اور ممکن ہے کچھ اور ہو۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ دفتر جانے کے وقت ہمیشہ انار کلی کی طرف جاتے ہیں اور کبھی ایسا نہیں کرتے کہ دریا کی طرف منہ کر لیں اور اسی کو انار کلی کا دفتر سمجھ لیں پھر جب آپ کے نزدیک دس بجے بارہ بجے اور ایک بجے سب یکساں ہیں۔تو کیا سبب ہے کہ آپ ہر روز ٹھیک دس بجے ہی دفتر جاتے ہیں اور آگے پیچھے نہیں جاتے۔پھر جب آپ کے نزدیک ماں بیٹی ، بہن ، بیوی سب برابر ہیں تو چاہیے کہ آپ سب کے پاس بلا حجاب جاتے ہوں۔اور اگر آپ ایسا نہیں کرتے جیسا کہ ظاہر ہے کہ آپ نہیں کرتے اور عملی رنگ میں آپ ہمارے برابر ہیں اور آپ کا مذہب آپ کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔تو پھر یہ ہدایت بے سود ہے عملی رنگ میں جو کچھ ہم کرتے ہیں وہی آپ کرتے ہیں تو آپ کا مذہب خصوصیت سے کس کام آیا۔وہ: اب میں جاتا ہوں پھر کسی وقت آپ سے ملوں گا۔