خطابات نور — Page 335
سب ٹوٹ پڑے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ محبوبوں میں بھی فرق ہوتے ہیں۔وطن بھی محبوب ہے۔اولاد بھی محبوب ہے۔بیویاں بھی محبوب ہیں۔مگر پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر صحابہ نے سب کو قربان کردیا اور ایک حُبّ دوسری پر غالب آگئی۔اس محبت کے ذریعہ بڑے بڑے سرچشمہ پھوٹتے ہیں۔دیکھوتم کو حضرت صاحب سے محبت ہے پھر میاں محمود سے محبت ہے پھر ان کی دوسری اولاد سے محبت ہے اور پھر مجھ سے بھی محبت ہے لیکن اگر کوئی امر مجھ سے خلاف شریعت سرزد ہو تو پھر تم کہہ دو گے کہ ہم تو اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں۔اب اس سے آگے چلو اور غور کرو کہ تقویٰ اور علم کے ہزاروں لاکھوں مراتب ہیں اور پھر ان محبتوں کے نتیجے میں کس طرح کی قربانی ہوتی ہے۔اب کفار ہی میں دیکھو۔میں نے ایک عربی اخبار میں پڑھا کہ دیکھو۔پنجاب میں لاجپت رائے۔مرہٹوں میں تلک، بنگال میں سریندر و بابو اور بپن پال محباّن قوم کہلاتے ہیں اور خاص خیال کے لوگ ان کے مداح ہیں۔ان کی خاطر بعض ناعاقبت اندیش لوگوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال دیا ہے اور مال و جان کی بھی کچھ بھی پرواہ نہیں کی۔مجھے معلوم ہوا کہ اٹھارہ سے پچیس برس تک کے نوجوان لڑکے ہیںجنہوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالا ہے۔اس لئے کہ وہ محباّن ملک ہیں۔تمام محبتوں سے بڑھ کر جب خیال آیا تو بیوی، بچوں، مال و دولت اور سب سے بڑھ کر جان تک کی بھی پرواہ نہیں کی۔ایک دفعہ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو مصلحین سے محبت ہے۔میں نے کہا ہاں ہے تو سہی۔مگر میرا عجیب تماشا ہے۔ایک کو دوسرے پر قربان کرتا رہتا ہوں۔اس نے کہا کہ کیشب بابو اور دیانند سے بھی محبت ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔انہوں نے لاکھوں بت توڑ ڈالے۔اس لئے اس حد تک میں نے ان سے محبت کی۔پھر کہا کہ سرسید سے بھی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔پھر اس نے کہا کہ آپ علی گڑھ نہ گئے اور نہ دیانند اور کیشب بابو کے پاس جاکر رہے۔مگر مرزا کے پاس تو ایسے گئے کہ گھر بار ہی چھوڑ دیا؟ میں نے کہا تم جانتے ہو کہ میں ایک مذہبی آدمی ہوں اور مجھے قرآن مجید سے محبت ہے۔اس میں لکھا ہے کہ (الانعام :۱۲۴)