خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 660

خطابات نور — Page 292

ابوبکر رضی اللہ عنہ پر پڑتا ہے اگر ابوبکرؓ کو نہیں مانتا تو پھر یوں کہو کہ محمدؐ اور علی رضی اللہ عنہ پر پڑتا ہے۔جب علیؓ پر ایمان لاچکے تو اب مہدی کے کیوںمنتظر ہیں۔غرض ایسے اعتراضوں سے بچنا چاہئے۔ضرورت اجتماع: اس وقت ضرورت ہے اجتماع کی پھر کیا یہ اجتماع ایک ہی وقت کے لئے کافی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ نہیں اس کی ہمیشہ ضرورت ہے دیکھولا الٰہ الا اللّٰہ کے لئے بھی پانچ وقت کی نماز کی ضرورت ہے پھر کہہ سکتے ہیں کہ صبح کو جو اکٹھے ہوئے تھے تو ظہر عصر اور مغرب اور عشاء کو اجتماع ضرورت ہے؟ پھر ہر جمعہ کو اکٹھے ہونے کی کیوں ضرورت ہے؟ پھر عیدیں کیوں جمع کرتی ہیں؟ پھر حج کیوں جمع کرتا ہے۔یہ ایک نیا سوال اسی طرح پر ایک وقت کی روٹی کھالی تو پھر دوسرے وقت کی کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح پر یہ سلسلہ سوالات کا قابل غور ہے۔میں یہ اس لئے بیان کرتا ہوں تاکہ تم سمجھو کہ اجتماع کی ہر وقت ضرورت ہے یہ مت سمجھو کہ ایک ممبر جو ضرورتاً چلا گیا ہے جیسا کہ ہمارا امام چلا گیا ہے تو اس سے ہمیں کم حوصلہ …ہونا چاہئے۔ایسا نہ ہو‘ ہمت ہار نی نہیں چاہئے اگر ایسا کرو گے تو رسہ کوئی اور لے جائے گا۔پس ہمیں امام کے چلے جانے کے بعد بھی اسی طرح وحدت، اتفاق، اجتماع اور پرجوش روح کی ضرورت ہے۔یہ اجتماع کیوں ہے؟ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک اجتماع کی ضرورت محسوس ہوئی اب میرے سامنے ایک اجتماع ہے میں پوچھتا ہوں کہ یہ اجتماع کیوں ہے؟ تمہارے اکٹھے ہونے کی کیا غرض ہے؟ میں تو تمہارے پاس نہیں گیا تم جو یہاں آئے ہو اور روپیہ خرچ کرکے آئے ہو تم نے سوچ ہی لیا ہوگا کہ کیوں آتے ہو؟ سردی کا موسم ہے گھروں میں بیماریاں ہیں تھوڑی سی ہوا لگتی ہے کھانسی ہوجاتی ہے ایسی حالت میں جو اس سفر کو تم نے اختیار کیا ہے اس کی غرض کو تم ہی سمجھتے ہو۔کیا یہ مطلب ہے کہ آئو تو مجھے بھی روپیہ دے جائو یہ بھی ایک سوال ہے۔پھر میںپوچھتا ہوں کہ تمہارے کیا اغراض ہیں۔تم نے جو تکلیف اٹھائی ہے کیوں؟ میں تو نہیں جانتا کہ تمہیں دال ملتی ہے یا کیا مگر گھر میں ممکن ہے کباب ملتے ہوں۔یہاں سونے کے لئے کسیر اور پرالی ہے اور گھر پر پلنگ اور گرم بسترے ہیں۔رات کو اگر کسی کو احتلام ہوجائے تو شاید گرم پانی ملے یا نہ ملے۔میں تمہارے اغراض کو کوئی معلوم نہیں کرسکتا۔میرے ایک دوست نے لکھا ہے کہا اس لئے