خطابات نور — Page 284
قرآن کریم میں قبولیت دعا کے اسرار میں اضطرار کو پڑھا۔جس سے قرآن کریم کی محبت میں ترقی ہوئی۔یہ پہلا وقت تھا کہ قرآن کریم سے اس طرح پر تعلق ہوا۔اس وقت مجھے سمجھ آگیا کہ قرآن کریم ہی تمام الٰہی رضامندیوں کی راہوں کا مجموعہ ہے۔چنانچہ خود قرآن مجید فرماتا ہے (العنکبوت :۵۲) (اکیسویں سپارہ کے ابتداء میں) جس کا خلاصہ یہی ہے کہ کیا قرآن مجید کافی نہیں ہے۔اس نے معاً اور اثر پیدا کیا اور میری ساری توجہ قرآن مجید کی طرف پھرگئی۔لکھنؤ میں شیعوں پر اتمامِ حجّت: میںلکھنؤ میں پڑھتا تھا۔ایک مرتبہ بعض لوگوں نے مجھ سے سوال کیا کہ حضرت عمرؓ نے حسبنا کتاب اللّٰہ (صحیح بخاری کتاب المرضیٰ قول المریض قوموا عنی)کیوں کہا؟ میں نے انہیں کہا کہ انہوں نے ٹھیک کہا کیونکہ قرآن مجید خود یہی کہتا ہے۔تب میں نے وہی آیت (العنکبوت:۵۲) پڑھی اور وہ خاموش ہوگئے۔اس واقعہ نے مجھے اور بھی لطف دیا اور میری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ مخالفین پر خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی قرآن مجید ہی کے ذریعہ کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔قرآن کریم کو ایک اور غرض سے پڑھا: اس خیال کے ساتھ قرآن مجید سے اور بھی تعلق بڑھا۔پہلے اس کو خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں کے معلوم کرنے کے لئے پڑھا تھا۔تو اب مخالفین پر اتمام حجت کی خاطر پڑھنے لگا اور اس طرز سے جب میں نے اس کو پڑھا اور مختلف مذاہب پر نظر کی تو قرآن مجید کے ذریعہ ہی ان سب پر کامیاب ہونے کے لئے گُر مجھے سمجھائے گئے یا سمجھ میں آگئے اور پھر میں نے اپنی زندگی میں ان اصولوں کو آزمایا اور بالکل صحیح پایا۔یہ ایک لمبا سلسلہ ہے اور ذاتی باتیں ہیں کہ کس کس طرح پر میں نے قرآن مجیدکے ذریعہ مخالفین کو نیچا دکھایا۔بہرحال تم اتنا سمجھ لو کہ اس راہ سے بھی کم از کم مجھے قرآن مجید کے ساتھ محبت بڑھ گئی۔اس محبت کے بڑھتے ہی میں نے اپنی دعائوں کے نتیجہ پر نظر ثانی کی کہ قرآن کریم کے خلاف تو نہیں ہیں۔