خطابات نور — Page 280
کے حل کے لئے کوئی تدبیر بتائو انہوں نے کہا کہ اس کا عمل مجھے یاد نہیں یہ سن کر مجھے بہت بڑا رنج ہوا۔دعا کا تجربہ: اور رنج کے ساتھ ہی یہ جوش بڑھا اور میرے دل میں آیا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی مشکل امر نہیں اور تمام مشکلات کی کلید تو دعا ہے آئو دعا کے ساتھ عقد ہمت اور استقلال سے کام لیں۔اس تحریک کے ساتھ میں اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھ کر اسے پکارنے پر آمادہ ہوا اور عقد ہمت کے ساتھ میں نے توجہ شروع کی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عشاء کے بعد ہی میرا وہ مطلب استاد کے سامنے حاصل ہوگیا۔یہ دیکھ کر میرے استاد کے دل میں آیا کہ اسے کوئی عمل آتا ہے۔ورنہ یہ سخت مشکل مطلب تھا اور یہ حل نہیں ہوسکتا تھا۔اس کرشمہ قدرت کو دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ لا الٰہ الا اللّٰہ ہی سچ ہے اور دعا اور عقد ہمت توجہ مشکلات کے لئے مشکل کشا کلید ہے۔تربیت کا چھٹا مرحلہ: یہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ پر ایمان بڑھ گیا اور دل میں ایک اور تحریک اور جوش اٹھا کہ ایسے قادر اور دعائوں کے سننے والے خدا کو راضی کرنا چاہیے اور پھر اسی غرض کے لئے دعائوں میں بھی اور جوش پیدا ہوا اور سفر کا مجھے اتفاق ہوا۔میں سفر میں بھی بڑی بڑی دعائیں کرتا اور جب کسی گائوں کو دیکھتا تو اسے دیکھتے ہی یہ دعا پڑھتا۔کسی گائوں یا شہر میں داخل ہونے کی دعا: اللّٰھم ربّ السّمٰوات السّبع وما اظللن و ربّ الارضین السبع وما اقللن و ربّ الشیاطین وما اضللن وربّ الریاح وما ذرین انانسالک خیر ھٰذہ القریۃ وخیر اھلہا وخیر ما فیہا واعوذبک من شرھٰذا القریۃ وشر اھلہا وشرما فیہا(المستدرک کتاب الجھاد)۔اللّٰھم ارزقنا حیا ھا واعذنا من وباھا اللّٰھم حببنا الی اھلہا وحبب صالحی اصلھا الینا۔(السلسۃ الضعیفۃ حدیث نمبر۶۰۹۴۰) ترجمہ:۔اے سات آسمانوں کے ربّ اور ہر ایک چیز کہ جس پروہ سایہ کرتے ہیں اور ساتوں زمینوں کے ربّ اور اس چیز کے جس کو وہ اٹھاتی ہیں اور ربّ شیطان کے اور ان کے جن کو وہ بہکاتے ہیں اور ربّ ہوائوں کے اور اس چیز کے جس کو وہ بکھیرتے ہیں بے شک ہم مانگتے ہیں تجھ سے بھلائی