خطابات نور — Page 272
اطاعت اور وحدت {طلباء مدرسہ احمدیہ کوخطاب فرمودہ ستمبر۱۹۰۸ء} حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بروح القدس نے اپنے معمولی درس قرآن مجید کے علاوہ ارادہ فرمایا ہے کہ وقتاً فوقتاً طلباء مدرسہ کو خصوصیت سے ہفتہ میں ایک یا دو مرتبہ بعد مغرب خطاب کریں۔آپ نے فرمایا کہ یہ تحریک میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوئی ہے۔ورنہ ہر روز آپ وعظ فرماتے ہی ہیں۔طلباء مدرسہ کو یہ خصوصیت اور امتیاز قابل ناز ہے کہ ان کے امام نے ان کے لئے اپنے گرامی اوقات میں سے کچھ حصہ مخصوص کیا۔جو حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں انہیں حاصل نہ تھا۔اس سے ان والدین کو کیسی خوشی ہوسکتی ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو مدرسہ تعلیم الاسلام میں بھیجا ہے مدرسہ کی یہ خصوصیت باعث فخر ہے۔ان دنوں جبکہ طلباء سے بعض پولیٹیکل لیڈر نہایت خطرناک کام لے رہے ہیں اور ان کی آتشیں تقریروں نے ناعاقبت اندیش نوجوانوں کے دلوں کو پھونک ڈالا ہے اور وہ اخلاق اور حقوق العباد کی کچھ بھی پرواہ نہ کرکے سوراجیہ کی خواہش کی گونج اپنے دماغ میں سنتے ہیں اور لبرٹی لبرٹی کے نعرے مارتے ہیں۔یہ بہت ہی ضروری پہلو ہے جو ہمارے امام کے خلیفہ (ایدہ اللہ بنصرہ) نے اختیار کیا ہے۔اس مقام پر یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ جس طرح پر ہمارے سید و مولا امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم اپنے اصول میں رکھی ہوئی تھی۔اسی طرح پر ہمارے خلیفۃ المسیح نے اس کو ضروریات دین میں سے یقین کیا ہے چنانچہ اسی اشاعت میں جو اعلان شائع کیا گیا ہے وہ اس امرکو بخوبی ظاہر کرتا ہے۔غرض حضرت خلیفۃ المسیح نے طلباء اور مدرسہ کو خصوصیت سے ہفتہ میں دو مرتبہ تلقین کے لئے وقت دینا پسند کیا ہے۔گزشتہ ہفتہ میں آپ نے دو مرتبہ جو تقریر کی اس کا خلاصہ میرے اپنے الفاظ میں درج ذیل ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ نہایت توجہ سے پڑھا جاوے گا۔(ایڈیٹر)