خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 230 of 660

خطابات نور — Page 230

جامع ہے۔غرض سننے والا اپنے وقت اور طاقت کو ضائع نہ کرے۔یہاں کیسا ہجوم ہے اور ہجوم میں کیسی خلاف صحت ہوائیں چلتی ہیں۔پس اس جگہ کھڑے ہو کر تم اپنا وقت ضائع نہ کرنا بلکہ تمہاری اغراض نیک ہوں۔سنانے والے کے کیا اغراض ہیں۔یہ بتلانے کی مجھے ضرورت نہیں۔کیونکہ یہ معاملہ میرے دل کا ہے یا میں خود جانتا ہوں یا اس سے بڑھ کر میرا مولا خوب سمجھتا ہے۔کیونکہ وہٰ (طٰـٰہ :۸)۔یعنی وہ موجودہ اغراض کو اور کہ ان اغراض کا نتیجہ دوسال کے بعد کیا ہو گا۔اس نتیجہ کو بھی جانتا ہے اس واسطے میں اپنی غرض کو بتلائو ں کہ میری اس بولنے سے کیا غرض ہے ضرور ت نہیں ہے۔۔۔۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔بہر حال تم لوگ اگر نیکی کی اغراض سے میری اس تقریر کو نہیں سنتے تو اپنے قیمتی وقت کو ایسی ہجو م اور ایسی متعفن ہو ا میں بے فائدہ رائیگاں نہ کرو۔بہت ساری مخلوق ایسی ہوتی ہے کہ ان کے اغراض بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور صرف موجودہ وقت کے واسطے ہوتے ہیں ہر انسان کو علم اور عقل اس لئے بخشا گیا ہے کہ اس کے اغراض بھی بہت بلند پر واز ی کرنے والے ہوں۔یہ میں نے تمہاری خیر خواہی کی ہے۔پس میری پہلی بات کو تم لے لو۔اور بڑی بات کو۔کا لائے بد بریش خاوند۔یہیں چھوڑ دو۔حق و حکمت کا کاسہ لینے سے دریغ نہ کرو اور برائی کے کلمہ سے ہمت بلند سے کام لے کر اعراض کرو۔جو آیت میں نے پڑھی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے۔تقویٰ کیا ہے اوراس کا نتیجہ کیا ہے اور اس کے پہلوئوں سے انسان کس طرح آگاہ ہو سکتا ہے۔اس سے مطلب یہ ہے کہ خدا تمہیں تقویٰ کا حکم دیتا ہے کہ حق تقویٰ ادا کرو۔تقویٰ کہتے ہیں اس بات کو جس سے انسان دکھوں اور تکالیف سے بچ سکتا ہے۔عربی زبان میں اس کا نام تقویٰ رکھا ہے اب آیا کہ کس طرح انسان دکھوں اور مصیبتوں سے بچ سکتا ہے قرآن کریم نے اس کو کھول کر بیان فرمایا ہے۔یہاں میں صرف ان میں سے ایک ہی آیت کو لیتا ہوں۔