خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 220 of 660

خطابات نور — Page 220

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت کے وقت پہلے پہل جس پر اپنا دعویٰ اظہار کیا وہ آپ کی بی بی خدیجہؓ تھیں۔ساتھ ہی اس بی بی کو یہ بھی کہا کہ میں مامور ہوا ہوں اس لئے اپنی جان کا بھی مجھے ڈر ہے۔یہ نمونہ تعجب انگیز نہیں۔اس وقت ہمارے مرشد ومولا بھی تن تنہا ہیں۔ہندو، سکھ، آریہ، عیسائی، شیعہ وغیرہ وغیرہ ُکل قومیں دشمن۔رشتہ دار دشمن۔سر پر باپ موجود نہیں۔غرض اندرونی بیرونی دنیا دشمن ہو رہی ہے پر خدا کے بغیر کون اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ میں خود ابھی تک اس حد تک نہیں پہنچا جسے میں چاہتا ہوں۔میں نے اس کی پاک زبان سے سنا ہے کہ میں ایک ایسے جنگل میں جانا چاہتا ہوں جس کی راہ میں لوہے کے کانٹے ہیں پھر ہم بظاہر دیکھتے ہیں کہ ہمیں کوئی دشواری نظر نہیں آتی مجھ کو جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ محبت ہے وہاں اس بی بی سے بھی اس طرح کی محبت ہے۔اس بی بی نے اس وقت آنحضرتؐ کو کیا جواب دیا اور کیسا پاک اور پیارا جواب دیا جو بخاری میں درج ہے کہ میری روح اس پر قربان ہوتی ہے فرمایا کـلّا واللّٰہ نہیں حضور ہرگز نہیں ہو سکتا۔خدا کی قسم خدا آپ کو کبھی ذلیل نہیں کرے گا۔آپ تو رحم کا بڑا بھاری لحاظ کرتے ہیں پس رحم کے لحاظ سے جو بیوی کے رشتہ داروں سے محبت کی جاتی ہے جو شخص ایسا لحاظ کرتا ہے پیارے خاوند وہ ذلیل نہیں ہوتا۔پس تم بھی رشتہ داروں سے خاص خاص پیار اور محبت کرو کہ خدا ذلت سے بچاوے۔آپ تو دکھیاروں کے دکھ اٹھاتے ہو اور دکھیوں اور تھکے ماندوں کی مدد کرنے والا خدا کے حضور ذلیل نہیں ہوتا۔پھر آپ کے حضور جو لوگ آتے ہیں وہ، وہ چیز پاتے ہیں جو جہان میں ان کو میسر نہیں آسکتی یعنی خدا کے قرب کی راہیں آپ سے ملتی ہیں۔اور آپ سچ بولتے ہیں اور ضرورتوں کے وقت آپ ہمیشہ لوگوں کے شریک ہوتے ہیں اسی طرح کے لوگ کبھی ذلیل نہیں ہوتے۔پس یہ ایسی باتیں ہیں کہ جو سچ طور پر رسول کی رسالت کو ثابت کرتی ہیں۔یہ کلمہ اس بی بی کے منہ سے نکلا ہوا ہزاروں ہزار لوگوں کے واسطے راہ ہدایت ہوا۔جب لوگ دیکھتے کہ پندرہ برس کی تجربہ کار بی بی ایسے الفاظ کہتی ہے تو سوائے ماننے کے اور کیا کہہ سکتے۔