خطابات نور — Page 200
شخص ہجرت کر کے مدینہ میں آیا۔پھر اس نے ان سے کہا کہ میں یہاں نہیں رہتا کیونکہ لوگ شرارتی ہیں۔شاہ صاحب نے اس کو کہا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آئے تھے یا عربوں کے واسطے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آئے تھے تو وہ تو ویسے ہی ہیں جیسا کہ تم نے یقین کیا تھا اور اگر عربوں کے لئے آئے تھے تو وہ بیشک ایسے ہی ہیں جیسا کہ تم سمجھتے ہو۔پس میں بھی ان احمقوں سے یہی کہوں گا جو اس قسم کی شکایتیں کرتے ہیں کہ اگر تم کے معلّم کے لئے آئے تھے تو وہ اپنے خلق عظیم کے ساتھ ویسا ہی موجود ہے اور اگر ہمارے لئے آئے ہو تو ہم ایسے ہی ہیں۔کیا کھانا کپڑا چارپائی گھر نہیں ملتی تھی جو اس قدر تکلیف اٹھا کر اسی روٹی کے واسطے یہاں آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو لوگ آتے تھے ان کے لئے جانتے ہو کوئی مہمان خانہ تجویز ہوا ہوا تھا یا کوئی لنگر خانہ جاری تھا؟ کوئی نہیں پھر بھی لوگ آتے تھے اور کوئی شکایت نہ کرتے تھے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آتے تھے اور وہی ان کی غرض ہوتی تھی۔غرض یہاں آؤ نہ اس لئے کہ روٹی یابستر ہے بلکہ اس لئے کہ تمہاری بیماریوں کا علاج ہو۔تم خدا کے مسیح اور مہدی سے فیض حاصل کرو۔ہماری بابت کچھ بھی خیال نہ کرو ہم کیا اور ہماری ہستی کیا؟ ہم اگر بڑے تھے تو گھر رہتے پاکباز تھے تو پھر امام کی ہی کیا ضرورت تھی اگر کتابوں سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا تھا تو پھر ہمیں کیا حاجت تھی ہمارے پاس بہت سی کتابیںتھیں ! مگر نہیں ان باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔دیکھو ایک درد سر کا بیمار ، ایک کھانسی والے بیمار کے پاس ہو اور وہ ساری رات کھانستا رہے اور اس کو تکلیف ہو اور اس کی شکایت کرے تو یہ شکایت بیجا ہوگی وہ خود مریض ہے اسی طرح پر ہم جس قدر یہاں ہیں اپنے اپنے امراض میں مبتلا ہیں اگر ہم تندرست ہو کر کسی مریض کو دکھ دیں تو البتہ ہم جوابدہ ٹھہر سکتے ہیں لیکن جبکہ خود مبتلائے مرض ہیں اور یہاں علاج ہی کے لئے بیٹھے ہیں تو پھر ہماری کسی حرکت سے ناراض ہونا عقلمندی نہیں ہے۔پس ہمارے سبب سے ابتلا میں مت پڑو۔جو لوگ ابتلاؤں سے گھبراتے ہیں میں سچے دل سے کہتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے نہ آیا کریں اور اگر ہماری کوئی تقریر ان کو پسند نہ آوے تو وہ یہ سمجھیں کہ ہم مامور نہیں۔صادق مامور ایک ہی ہے جو مسیح