خطابات نور — Page 182
پہنچایا اس لئے آپ کی تعریف بھی اسی قدر ہوئی۔اس سے بڑھ کر کیا فائدہ ہوگا کہ ابد ا لآباد کے لئے خلافت کا سلسلہ آپ کے کامل متبعین میں رکھ دیا۔ (النّور:۵۶)۔اسی وعدہ حقّہ اور صادقہ کے موافق آج بھی خدا تعالیٰ(نے)خاتم الخلفاء کو بھیجا ہے۔غرض !خدا میں جو رحمن ورحیم کی صفت تھی محمد و احمد میں وہ جلوہ گر ہوئیں اس لئے وہ اپنے سچے غلاموں میں دونوں باتیں پیدا کر دیتا ہے اور یہ دیکھا گیا ہے کہ جس قدر مصلحان اسلام میں ہوئے ہیں وہ یا اسم محمدؐ کے نیچے تھے یا اسم احمدؐ کے۔میں نے دیکھا ہے کہ علماء ایک بڑی بھاری غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں جب کہ وہ تمام مختلف پیشگوئیاں جو مختلف اشخاص کے حق میں ہوئی ہیں ایک ہی آدمی میں جمع کرنا چاہتے ہیں کی آیت بھی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ موعود خلیفے ایک سے زیادہ ہوں گے پھر کیوں سعی کی جاتی ہے کہ سب کا مصداق ایک ہی ہو۔مختلف مہدی ہوئے اور اپنے اپنے وقت پر ہو گزرے مسیح بھی ایک مہدی ہے اور وہ اب موجود ہے مگر ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ جس کو چاہتا ہے فضل دیتا ہے اگر کہو کہ اس وقت بہت سے سلسلے گدی نشین اور سجادہ نشین اور کیا کیا ہیں تو (الجمعۃ :۶) اسفار ان بڑی کتابوں کو کہتے ہیں جن سے کشف حقائق ہو جاتا ہے مگر کوئی بتائے کہ ان انکشافات کے اسباب سے گدھا کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے گدھا جس کی عقد ہمت اور توجہ اس سے پرے نہیں کہ دانہ اور گھاس مل جاوے یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ اچھی اروڑی مل جاوے اور طویلہ کا آخری حِصّہ ہو جو خاکروب نے اچھی طرح صاف نہ کیا ہو۔رات کو جھول اور پالان مل جاوے مقدرت سے زیادہ بوجھ نہ ہو۔اصل غرض اس کی تھوڑی سی نفس پرستی ہے۔اسی مثال کو اللہ تعالیٰ یہاں بیان کرتا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس انکشاف حقائق کے اسباب ہوتے ہیں مگر وہ ان سے اس قدر فائدہ صرف اٹھاتے ہیں جس قدر گدھا دانے ، گھاس، جل ، پالان اور تھوڑی سی رسی یا اروڑی سے۔پس جن کی اصل غرض دنیا ہوتی