خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 109 of 660

خطابات نور — Page 109

آئے بھی تو بہت دیر کے بعد اور پھر وہاں تک پہنچنا بہت مشکل اور وقت چاہے گا۔مگر یہ لوگ ان تمام مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔نہیں انہوں نے اپنے اعزّہ اور احباب کی محبت، وطن کی الفت اور آرام کی پروا نہیں کی اور اس سفر کو مقدم رکھ کر ۶؎۔اس وقت اس دور دراز ملک کے سفر کی جو تیاری کی گئی ہے تو اس کی کیا غرض ہے؟ اس کی غرض بھی وہی ہے جو صحابہ کے سفروں کی تھی یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ اور اسلام کی عزت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو ظاہر کرنا۔اس وقت ایک قوم موجود ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی صفات ایک عاجز انسان کو دے رکھی ہیں اور اسے خدا بناکر دنیا کو منوانا چاہا ہے۔یہ قوم عیسائیوں کی قوم ہے۔وہ مسیح کو خالق مانتے ہیں، شافی مانتے ہیں، محیی مانتے ہیں اور عالم الغیب مانتے ہیں اور سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسلمان جو ایک ہی حقیقی خدا کے پرستار تھے وہ اعتقاد کے طور پر ان کے ساتھ ہی ہیں یعنی اسی قسم کی صفات مسیح میں یقین کرتے ہیں۔یہ جدا امر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم مسیح کو خدا نہیں مانتے مگر اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ خدائی کی صفات ان میں یقین کرتے ہیں۔حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی ایک مثال بارہا دیا کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی ایسی حالت ہے جیسے کوئی شخص کسی مردہ کو کہے کہ یہ مرگیا ہے لیکن دوسرا شخص کہے کہ ہاں اس کی نبض بھی نہیں چلتی۔بدن بھی سرد ہے کسی قسم کی حس و حرکت باقی نہیں ہے لیکن ہے زندہ۔عیسائی تو صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ وہ خدا ہے مگر مسلمان اپنی غلط فہمی سے یہ کہتے ہیں کہ نہیں خدا تو نہیں ہے۔یہ غلط ہے۔البتہ وہ شافی ہے اسی طرح جس طرح اللہ شافی ہے۔غیب دان ہے۔مردوں کو زندہ کرنے والا محیی ہے۔حی و قیوم ہے۔پھر بتائو اس کے خدا ہونے میں کیا شک باقی رہا۔مسلمانوں نے ایک اور بات بھی مسیح کے متعلق مان رکھی ہے جو دوسرے انبیاء میں وہ نہیں مانتے کہ صرف مسیح ہی مسِّ شیطان سے پاک ہے۔میں جب ان باتوں کو سنتا ہوں تو سخت حیرت اور افسوس ہوتا ہے کہ وہ جو موحّد کہلاتے ہیں ان کا اعتقاد اس قسم کا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کی توحید کو زندہ کرنے کے واسطے اور اس عقیدہ کو دور کرنے کے لئے حضرت امام علیہ الصلوٰ والسلام نے پسند فرمایا ہے کہ ہمارے بعض احباب سفر کریں اور جو کچھ باتیں معلوم ہوئی ہیں ان کی تصدیق کرلاویں۔مسیحی مذہب کی شکست کے لئے اس سے بڑھ کر کارگر حربہ نہیں ہوسکتا