خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 101 of 660

خطابات نور — Page 101

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر میکنند چوں بخلوت میروند آں کار دیگر میکنند پھر ایمان بالغیب میں بہت سی باتیں ہیں جن کو ماننا چاہئے۔اصل میں ثواب کے حاصل کرنے کے لئے ایمان بالغیب ضروری شیء ہے اگر کوئی شخص مثلاً آفتاب و ماہتاب پر ایمان لاوے تو تم ہی بتائو کہ یہ ایمان اس کو کس ثواب کا مستحق اور وارث بنائے گا؟ کسی کا بھی نہیں لیکن جن چیزوں کو اس نے دیکھا نہیں ہے۔صرف قرائن قویہ کی بنا پر ان کو مان لینا کہ وہ اللہ تعالی کی کتاب میں آئی ہیں ایمان بالغیب ہے جو سودمند اور مفید ہے۔پھر فرمایا کہ جب انسان ایمان لاتا ہے تو اس کا اثر اس کے جوارح پر بھی پڑنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کے لئے تعظیم لامر اللہ کا لحاظ ہو اس لئے فرمایا  (البقرۃ:۴) یہ متقی وہ لوگ ہوتے ہیں۔جو نماز کو قائم کرتے ہیں۔کیونکہ نماز اللہ کے حضور حاضر ہونے کا موقع ہے۔مومن کو چاہئے کہ نماز کو اسی طرح پر یقین کرے۔ابتداء نماز سے جب اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے اور کانوں پر ہاتھ رکھتا ہے تو گویا دنیا اور اس کی مشیختوں سے الگ ہوجاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ہی سروکار رکھتا ہے پھر اپنے مطالب و مقاصد بیان کرے۔نماز میں قیام، رکوع، سجدہ اور سجدہ سے اٹھ کر پھر دوسرے سجدہ میں اپنے مطالب بیان کرسکتا ہے۔پھر التّحیات میں صلوٰۃ اور درود کے بعد دعا مانگ سکتا ہے۔گویا یہ سات موقعے دعا کے نماز میں رکھے ہیں۔۴؎ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں قسم قسم کے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور حضور قلب حاصل نہیں ہوتا۔اس کے لئے کیا کیا جاوے؟ اس کا علاج بھی نماز ہی ہے۔کثرت کے ساتھ بے ذوقی اور بے حضوری سے بھی جب دعائیں ہوتی رہیں گی تو اسی بے حضوری سے حضور اور بے ذوقی سے ایک ذوق پیدا ہوجائے گا لیکن اصل بات یہ ہے کہ گھبرانا نہیں چاہئے اور تھک کر اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔جو مطالب پیش کرتے ہو اور جو کچھ پڑھتے ہو اگر سمجھ کر پڑھو پھر حضور پیدا ہونے لگے گا۔نماز کے عجائبات میں سے اجتماع بھی ہے۔اس لئے حتی الوسع نماز کو باجماعت ادا کرو۔ہماری جماعت کے لئے ایک قسم کا ابتلا کا زمانہ ہے بعض کم فہم اور مساجد کے اغراض سے ناواقف لوگ