خطابات نور — Page 551
عملدرآمد کے لئے بڑی سہل ہے۔کوئی تم میں ہے جو قرآن شریف پر عمل کرنے کا نفع اُٹھائے ؟ قرآن کو تو بڑا ہی آسان بنایا ہے کوئی تم میں ہے جو اس بات کو سمجھے ؟میرا جی چاہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک کہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق دے۔پھر فرمایاکہ اپنے افعال ، حرکات ، سکنات ، عملدرآمد میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھا کرو اور حضرت حق سبحانہٗ تعالیٰ کی مخالفت نہ کرو پھر دیکھو ہم تم کو کتنا بڑا بنا دیں گے۔اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑا ہے اس کے پاس پہنچنے والا بھی ہوا۔یہ ہونے کی کنجی ہے کہ اس یقین کو پیدا کرو۔باقی مباحثہ کرنا ہر ایک شخص کا کام نہیں۔اول ان اپنے مذاہب سے تامہ واقفیت ہو۔جن کی طرف سے یا جن کے ساتھ مباحثہ کرتا ہے۔اپنی واقفیت تامہ کے بعد جس کو خطاب کرنا ہے وہ عیسائی ہو، یہودی ہو ،مجوسی ہو ،ویدوں کا ماننے والا، گیتا کا پیرو ، مہا بھارت کا پیرو ہو ، جینیوںکی پہاڑیوں کو جانتا ہو ، چار واک کو سمجھتا ہو۔غرض کوئی ہو اس کی کتاب کا علم بھی جب تک نہ ہوگا تم مباحثہ نہیں کرسکتے۔ہماری جماعت کا ہر ایک آدمی مختلف مذاق پیدا کرے جس فن میں اللہ تعالیٰ یمن وبرکت دے اس میں مباحثہ کرے۔ایسا نہ ہو کہ دوسرا کہہ دے کہ تم تو واقف ہی نہیں۔یا پاس والے کہہ دیں کہ تم تو اسلام سے بھی واقف نہیں۔اپنے ڈھکوسلوں سے مقابلہ نہ کرو۔ظالم سے اعراض کرو ، پرواہ ہی نہ کرو۔اس کے سامنے کہہ دو ۔ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے تم جھگڑتے کیوں ہو۔اُلُّو کے پٹھے سے آدمی کہاں مقابلہ کر سکتا ہے۔ایک دفعہ میں نے ایک شخص سے کہا کہ یہ معمولی سنن الہدیٰ میں سے ایک مسئلہ ہے چونکہ اس کے دل میں شرارت تھی وہ شرارت سے کہنے لگا کہ لوگو! سنت رسول تو سنتے رہے تھے اب سنت خدا سن لو۔سنن الہدیٰ کو اس نے سنن خدا کہہ دیا۔منکر کو کوئی کیا سمجھا ئے گا وحدت دنیا میں نبیوں سے ہوئی نہیں۔آج سائنس کا ایک مسئلہ آگیا اس کے مطابق کیا کل کو ا س کی بجائے دوسرا مسئلہ سائنس نے نکالا تو پھر اس کے مطابق آیت چاہئے ایسے پارہ مزاج سائنس دانوں کے ساتھ تم کہاں تک مقابلہ کر سکتے ہو۔اپنے فہم کے مطابق مباحثہ کرو۔ہر شخص کو کہاں مجاز ہے کہ مباحثہ کرےفرمایا۔شہر مکہ میں کوئی یونیورسٹی نہیں