خطابات نور — Page 507
ایک وقت مجھے کسی نے کہا کہ کوئی ایک دعا کرو منظور ہوگی۔میں نے اس وقت کہا کہ عمر چھوٹی ہے دشمن نہیں‘ دوست نہیں‘ بیوی بچہ نہیں کیا دعا ہوگی۔مگر اس نے کہا کہ جھٹ پٹ کوئی دعا کرلو۔تب میں نے کہا کہ یہ دعا کرتا ہوں کہ ضرورت کے وقت میری دعائیں قبول ہوجاویں۔پس میں مخلوق سے خدا کے فضل سے بے پرواہ ہوں۔تمہاری بھلائی چاہتا ہوں۔آتے ہوئے تو مسجد کو دیکھ کر خوش ہوا اور جاتے ہوئے یہ آواز میرے کان میں آوے کہ ہم نے بغض کینے چھوڑ دئیے ہیں۔تمہیں اور رسالے کتابیں تصنیف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔حضرت صاحب کی کتابیں تھوڑی ہیں وہ پڑھو۔قرآن پڑھو‘بخاری ہے اسے پڑھو‘ اللہ تعالیٰ تمہیں باہم محبت عطا کرے اور آپس کے بغض اور کینہ دور ہوجاویں۔(آمین) (الحکم ۲۱، ۲۸؍جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۲ تا ۶)