خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 486 of 660

خطابات نور — Page 486

کیا۔پس ہم کہتے ہیں جو بھی تیرے حضور  ہیں ان کے قدم بقدم چلائو۔اسلام کی تعلیم میں عالمگیر صلح کا دوسرا اصل: پھر ایک اور احسان عام اسلام نے یہ کیا کہ اپنے متبعین کو یہ تعلیم دی۔(الانعام :۱۰۹)۔فرمایا کوئی معبود کسی قوم کا ہو کسی کو گالی مت دو۔قرآن کریم چونکہ اپنے دعویٰ کے ساتھ دلائل بیان کرتا ہے۔اس لئے اس تعلیم کی خوبی عقلی دلیل سے سمجھائی کہ جو لوگ اللہ کے سوا اور معبودوں کو پکارتے ہیں تم ان کے معبودوں کو گالی نہ دو۔کیونکہ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ اللہ تعالیٰ کو گالی دیں گے۔اس عقلی دلیل سے ہماری قوم کو بتایا ہے کہ کسی دوسری قوم کے معبود کو ہم گالی نہیں دے سکتے اور یہ فخر صرف قرآن مجید کو حاصل ہے۔کوئی کہے تم کیا جانتے ہو؟ میں کہتا ہوں کہ میں نے بائبل کو پڑھا ہے اور کثرت سے پڑھا ہے۔اس میں یہ تعلیم نہیں۔تین وید پڑھے ہیں (پڑھوا کر سنے ہیں) اور خوب پڑھے ہیں۔ژنداوستا، گاتھ، سفرنگ کو خود پڑھا ہے اور خوب پڑھا ہے مگر یہ تعلیم کہ کسی اہل مذہب کے معبود کو گالی نہ دو۔ان میں نہیں۔قرآن کریم نے صداقت اور ہدایت کے لئے مسلمانوں کو ایسا وسیع الحوصلہ ہونے کی تعلیم دی کہ کی دعا سکھائی۔تمام مذاہب پر یہ احسان عام کیا کہ ان کے معبودوں کو گالی دینے سے منع فرمایا۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ معبودان باطلہ کی تردید منع کی۔اس کے لئے الگ اصول اور طریقے تعلیم کئے۔یہاں صرف وہ بات بتائی جو امن اور سلامتی کو قائم رکھتی ہے۔پھر ان احسانات کے ساتھ ایک اور احسان اسلام نے کیا جو میرے خیال میں دنیا کے کسی ریفارمر اور مصلح کو نہیں سوجھا وہ یہ ہے۔(الحج :۴۱) ہم بعض اوقات خود حفاظتی کا حکم دیتے ہیں اور اس سے غرض یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو گرجے تباہ ہوجاویں۔دھرم سالے اور یہودیوں کے معبد تباہ ہوجاویں اور ہم نہیں چاہتے کہ وہ تباہ ہوں۔کیا یہ سنہری اصل دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں پایا جاتا ہے؟ اگر یہ فقرہ انجیل میں ہوتا تو مسیحی لوگوں