خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 660

خطابات نور — Page 485

کردی کہ آیندہ یہ غلطی نہیں ہوسکتی۔آپؐ نے یہ کھول کر بتادیا کہ میں عبد ہوں اور رسول ہوں۔اذان میں اس کلمہ کو رکھنے سے یہی غرض ہے کہ ہادیان مذہب کو معبود بنانے کی غلطی اس قوم میں پیدا نہ ہو۔پھر جامع تعظیمات الٰہیہ کی دعا نماز ہے اور تمام ان راہوں سے جو مظفر و منصور ہونے کی راہیں ہیں حی علی الفلاح کہہ کر واقف کیا۔اس کو اس قدر بلند آواز سے پہنچایا کہ خلقت کو کبھی شبہ نہ رہے۔مخفی مذاہب: میں نے ایسے مذاہب دیکھے ہیں جو اپنی تعلیم کو مخفی رکھتے ہیں۔ان میں بڑا مذہب فری میسن ہے۔اس کی تعلیم اور حالات عام نہیں ہوتے۔اس میں بعض مصالح ملکی بھی ہیں۔اس لئے بڑے بڑے عہدہ دار اس میں شامل ہوتے ہیں۔لوگوں نے فریمیسنر ی کے متعلق عجیب عجیب باتیں سنائی ہیں۔مگر فریمیسن ان کو سن کر ہنس دیتے ہیں۔شاکت مت: پھر ہندوئوں میں ایک قوم ہے جو اپنے مذہب کو مخفی رکھتی ہے۔لاہور اور امرتسر میں وہ دو،تین ہوں گے۔وہ بھی اپنے مذہب کو بہت ہی مخفی رکھتے ہیں۔میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ جو تعلیم تعظیم الٰہیہ اور شفقت علی خلق اللہ پر مبنی اصول رکھتی ہو اس کے چھپانے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔میں نے بہت سوچا ہے مگر یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔اس لئے ان تمام مخفی مذاہب کے مقابلہ میں اسلام پانچ وقت روزانہ بلند آواز سے اپنے کل عقائد کو کھول کر بیان کرتا ہے۔اسلام کا امتیاز: کیونکہ اسلام میں کوئی مخفی راز نہیں اگر کسی نے شخصی ضرورتوں کے لئے کوئی ایسی انجمن بنائی ہو تو اس کا ہمیں علم نہیں مگر یہ میں جانتا ہوں کہ اسلام کسی مخفی سوسائٹی کی تعلیم نہیں دیتا اور جہاں تک میں نے اسلام کو سمجھا ہے اس کی کوئی ایسی بات نہیں جو مخفی رکھی گئی ہو۔بہرحال ہمارا مذہب تو ایسا کھلا ہے کہ پانچ وقت پہنچایا جاتاہے۔زمین چونکہ گول ہے اس لئے یہ کہنا درست ہے کہ ہر وقت اس کے اصولوں کو کھول کر سنایا جاتا ہے۔اس پر تیس ۳۰سال گزر گئے ہیں اور یہ برابر سنایا جاتا ہے۔غرض اس آیت میں اسلام کے احسان عام کی تعلیم ہے جس سے دنیا میں ایک امن اور سلامتی پیدا ہو سکتی ہے جبکہ یہ تعلیم دی ہے کہ ہمیں منعم علیہ کی راہ دکھائو۔اس میں کسی قوم اور ملک کو مخصوص نہیں