خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 397 of 660

خطابات نور — Page 397

نے فرمایا ہے:(الانفال : ۶۴)۔ساری زمین کی گول بھر کر اگر دے دو تو بھی یہ الفت پیدا نہیں ہوسکتی۔(جو اَبْ اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کردی ہے) اور فرمایا (اٰل عمران :۱۰۴)۔خدا کے فضل سے تم بھائی بھائی ہوگئے۔دعائیں کرو: میرے احباب میرے عزیز دوستوں پر واجب ہے۔جناب الٰہی سے باہم الفت، محبت اور اخوت کے لئے دعا کیا کریں۔مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگائے کہ یہ جماعت نہ بنے۔مگر اب تم اس قدر لوگ موجود ہو۔یہ جناب الٰہی کے فضل کا نمونہ ہے۔دوسرا مرتبہ: لا الٰہ الا اللّٰہ کا یہ ہے کہ جب یہ کلمہ دل میں رچ جاتا ہے اس وقت انسان کو مومن کہتے ہیں۔مومن کا لفظ خود بھی امن سے مشتق ہے۔یہی اسلام کا اعلیٰ مقام ہے۔مومن امن میں تبھی رہ سکتا ہے کہ دشمن کا مقابلہ بھی کرے۔عسکل عرینہ کے چند موذی مدینہ میں آئے بعض صحابہ کرام کو قتل کیا۔لکھا ہے۔مثل اعینہم۔ان کی آنکھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چِروادی تھیں تا ایذاء سے باز آجاویں۔مومن امن دینے والا اور خود امن میں رہنے والا ہوتا ہے۔جب یہ کلمہ دل میں رچتا ہے تو مومن ایمان کے یمن میں اور برکات سے متمتع ہوتا ہے۔یہ ایمان کا باغ جب دل میں لگ جاتا ہے۔کوئی دکھ اور کوئی ناخوشی اورکوئی خوف و حزن باقی نہیں رہتا۔میں ایک دفعہ مصیبت کے کسی پنجہ میں گرفتار تھا۔صبح کی نماز پڑھانے لگا۔اس وقت میرے دل میں جب یہ لفظ آیا۔الحمدللّٰہ تو میرے دل نے یہ گواہی دی کہ اس دکھ میں الحمدللّٰہ کا کیا موقع ہے۔اگر کہوں تو منافقانہ الحمدللّٰہ ہے۔نہ کہوں تو الحمد کے سوا نماز کیسے ہوتی ہے۔معًا خدا نے بجلی کی طرح سمجھایا کہ جب انسان (البقرۃ :۱۵۷) کہتا ہے تو ہر مصیبت کے وقت ہزاروں خوشیاں دیتا ہے۔تب میں نے انا للّٰہ کہہ کر بڑی بلند آواز سے الحمدللہ کہا یہ اس ایمان کا نتیجہ تھا۔ایمان سے وہ سارا خوف اور حزن راحت کے ساتھ مبدل ہوجاتا ہے اور وہ مضمون کہ مومن