خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 390 of 660

خطابات نور — Page 390

یہ پہلا موقع ہے جو ایک سوفسطائی سے میری ملاقات ہوئی۔واقعات ِ عالم جو ظاہر ہو رہے ہیں ان کا کیونکر انکا رہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے شروع میں ہی اپنا نام ربّ العالمین رکھا ہے۔عالم ایک چیز ہے جس کا وہ ربّ ہے۔بھرم ورم کوئی شے نہیں سوفسطائی قوم بھی عملاًہمارے ہی ساتھ ہے۔ان کا علم عمل کے لئے نہیں بلکہ صرف مباحثات کے واسطے ہے۔لاہور کے مباحثات کے فیضان میں یہ دوسرا موقع ہے۔اذان مجھے اس سوفسطائی کے ساتھ ملاقات کرنے سے اور اس کی باتوں کے سننے سے بہت خوشی ہوئی کہ حق کا غلبہ ہے۔اسلام نے جو بات سکھلائی ہے وہی عملی رنگ میں سچی ہو سکتی ہے اس کے سوائے دنیا کا گزارہ ہی نہیں۔اسلام میں کوئی ایسی بات نہیں جو مخفی رکھنے کے لائق ہو یا جو خاص کے واسطے اور ہو اور عوام کے واسطے الگ ہو جیسا کہ بعض مذاہب میں اکثر باتیں دوسرے لوگوں سے مخفی رکھی جاتی ہیں کسی پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔ہندوئوں میں ساکت مت ہے ،وہ عام طور پر اپنے عقائد کو بیان نہیں کرتے بلکہ اس کے اظہارمیں بہت مضائقہ کرتے ہیں۔اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا بیان ا ہلِ اسلام کے واسطے کسی حالت میں بھی قابل شرم ہو۔یہی وجہ ہے کہ اسلام اپنے عقائد کو ہمیشہ اونچے سے اونچے مکانوں پر چڑھ کر اور بلند میناروں پر کھڑے ہو کر دن میں پانچ دفعہ پکار کر سب کو سنا دیتا ہے موذن کا نوں میں انگلی دے کر تاکہ اس کے کان کے پردوں کی حفاظت ہو، نہایت بلند آواز سے ایسے کلمات بول دیتا ہے جو کہ دین اسلام کے تمام اصول اور فروع کے لئے جامع ہیں یہی اصلی اور حقیقی اور سچا مذہب ہے۔جس کی منادی کو ٹھوں پر چڑھ کر برملا کی جاتی ہے۔افسوس ہے کہ موجودہ صدی کے مسلمان اذان کی حقیقت سے آشنا نہیں رہے اور اس کی خوبیوں سے بے خبر ہو گئے ہیں ورنہ بطور فخر کے اسے دیگر مذاہب کے سامنے پیش کرتے اور صرف اس کے ذریعہ سے سب کو جیت لیتے اس میں عقائد اصول فرائض، مواجب ، ضروریات ،نتیجہ اسلام اعمال سب باتیں شامل ہیں۔اللہ اکبراللہ سے کون بڑا ہے اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔اللہ وہ ذات ہے جو تمام صفات کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ اور عبادت کے لائق ہے اس سے پرے مدح کا کوئی کلمہ