خطابات نور — Page 361
سوال کئے ہیں۔ہماری صحبت میں رہنے والے ان قصص سے واقف ہیں اور بعض کے نام سے بھی واقف ہیں۔میں چھوٹا سا تھا میں نے ایک شخص کو دیکھا وہ بہت مضمحل ہورہا تھا۔میں نے اسے کہا کہ کیا تم بیمار ہو۔اس پر اس نے پکڑ کر ایک عورت کو میرے سامنے کیا اور کہا کہ اس کے عشق کی اب بھی سزا دیتے ہیں۔مجھے اس واقعہ پر عورتوں سے ایسی نفرت ہوئی کہ ماں کا چہرہ بھی ناگوار ہوگیا۔یہاں بعض وہ لوگ بیٹھے ہیں کہ جو اس قصہ سے واقف ہیں۔ہمارے گھر میں ایک عورت روٹی پکاتی تھی۔میں نے کہا کہ روٹی ڈیرے پر بھیج دیا کرو۔اتفاق سے میں اس جگہ گیاجہاں کی وہ عورت تھی جو مجھے دکھائی گئی۔پھر اس محلہ میں گیا جہاں کی عورتیں بہت حسین ہوتی ہیں۔چونکہ وہاں میری وجاہت تھی۔میں نے عورتوں کے ایک گروہ کو کہا کہ مائیو ذرا ٹھہر جائو۔وہ ٹھہر گئیں اور میں نے غور سے دیکھا تو وہ لڑکی ان میں مجھے نظر آئی۔میں نے ان عورتوں کو کہا کہ اس کو ذرا میرے پاس بھیج دو۔انہوں نے اسے دھکا دے کر آگے کردیا۔میں نے اس سے اس کا نام پوچھا جو اس نے بتادیا۔اس کے بعد میں نے ایک شخص سے جو اس مرے ہوئے سے واقف تھا پوچھا کہ وہ کسی پر عاشق تھا۔وہ یہ سن کر حیران ہوگیا۔اس نے کہا کہ مرتے وقت اس کا سر میری ران پر تھا اور میرے اور اللہ تعالیٰ یا اس لڑکی کے سوا کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کسی پر عاشق بھی ہے۔میں نے کہا عشق و مشک را نتوانست نہفت۔(الانعام :۱۱۲) تک تو نوبت پہنچ چکی تھی۔اس پر جب میں نے یہ حالات بتائے تو اسے بہت تعجب ہوا مگر اس واقعہ نے میرے قلب پر بہت اثر کیا اور مجھے عورتوں سے حد سے زیادہ نفرت ہوگئی اور خوف غالب ہوگیا مگر میں نے اس واقعہ کو ایمان کے لئے مفید پایا۔کیونکہ ایمان خوف اور رجاء کے درمیان ہوتا ہے۔پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ بہشت میں ہے، غُرَفَات میں ہے۔وہ سماں اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔میں اسے جانتا تھا کہ وہ شراب خور اور عیاش تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا گزر یہاں کیونکر ہوا۔اس نے جواب دیا کہ میری غریب الوطنی پر رحم ہوگیا۔بعد اس کے ہم نے ایک آدمی سے اس کی بابت پوچھا تو اس نے کہاکہ وہ سرشتہ دار تھا متوالا رہتا تھا۔ایک روز