خطابات نور — Page 334
پنبہ ام درگوش کن لوگ پڑھ اٹھتے ہیں۔غرض فانی چیزوں کی محبت کا یہی حال ہے کہ وہ فانی اور زوال پذیر ہیں۔تماشا کی گڑیا کیسی حسین ہوتی ہے مگر کوئی اسے محبت نہیں کرتا۔جانتے ہیں کہ ابھی تباہ ہوجائے گی۔ان واقعات سے ایک اصل ہمارے ہاتھ آگیا کہ حسن یا احسان ہو۔اس کے ساتھ کمال ہو۔اس میں دوام ہو تو وہ محبوب ہوجاتا ہے۔اس سے آگے بڑھو ایک اور باریک چیز ہے جو محبوبیت کی شان رکھتی ہے۔وہ علم ہے۔اگر علم کا ذوق ہو تو حسین جمیل بیوی کتنا ہی کہے کہ یہاں ٹھہرو تو وہ یہی کہے گا کہ فلاں عالم کا آج لیکچر ہے میں تو اسے سنوں گا۔تمہارا آنا قادیان آنا بھی اسی ذوق کے ماتحت ہے جو سارے آرام چھوڑ کر چلے آئے۔ایک واعظ ہو‘ سخت بد شکل ہو‘ منہ کے دانت نکلے ہوئے ہوں۔لیکن اپنے کمالات علم کی وجہ سے وہ محبوب ہوجائے گا۔اس سے یہ مسئلہ حل ہوا کہ ایک محبوب پر دوسرا محبوب قربان کیا جاتا ہے۔کبھی علم سے محبت ہوتی ہے۔کبھی دین سے، انبیاء و رسل سے محبت کی جڑ یہی ہے۔مکہ میں عناق نام ایک کنچنی زمانہ جاہلیت میں تھی۔ایک صحابی کا زمانہ جاہلیت میں اس سے تعلق تھا۔جب وہ مسلمان ہوا تو وہ تعلق بھی جاتا رہا۔وہ ہمیشہ مدینہ سے مکہ آتے اور مسلمان قیدیوں کو چھڑاکر لے جاتے۔یہ بدکار قوم ایسی ہے کہ جب کوئی نہ ملے تو دیر تک چراغ جلا کر بیٹھی رہتی ہیں۔ایک رات جو وہ آیا تو اس کا گزر اس کے گھر کے پاس سے ہوا۔تو اس نے کہا او جابر! میں جانتی ہوں تو کس غرض کے لئے آیا ہے۔میں تیری غرض میں مدد دوں گی تھوڑی دیر کے لئے یہاں آجائو۔جابر نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کردیا ہے۔اس نے کہا۔محمدؐ فی المدینۃ این ینظر۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو مدینہ میں ہے وہ کہاں دیکھتا ہے۔جابر نے کیا اچھا جواب دیا ربّ محمد ینظر اس پراس کنچنی نے کہا کہ پرانا زمانہ یاد کرو۔مگر اس پر بھی جب اس کا مطلب پورا نہ ہوا تو کہا تمہیں مشکلات میں ڈلوادوں گی۔اس نے اس پر کہا کہ کچھ بھی پرواہ نہیں۔کیونکہ وہ تو اپنے تمام محبوبات کو اسلام کے لئے جواب دے چکا تھا۔یہ سن کر وہ چلائی کہ مکہ والو! تمہارے قیدیوں کو چھڑالے جانے والا موجود ہے۔اس پر