خطابات نور — Page 279
شرک کیونکر پیدا ہوتا ہے: جب دنیا میں مختلف قسم کے حوادث اور واقعات پیش آتے ہیں تو کمزور کم عقل لوگ شرک میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ندیوں میں غرق ہوئے اور ان کے طوفانوں سے تباہ اور ہلاک ہوئے تو جھٹ ان کی پرستش شروع کردی۔پہاڑ گرے اور کہیں آتش خیز پہاڑوں کے شعلے دیکھے۔جھٹ ان کی پرستش کرنے لگے۔چونکہ ہندوستان میں دھوپ پڑتی ہے اور اس سے آرام کے لئے سایہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس دھوپ سے بچانے اور آرام دینے میں بڑ کا درخت بہت ہی مفید ہے اس لئے اس کی پرستش اور پرورش کی طرف خاص توجہ انہوں نے کی۔غرض ہندوستان کی مشرک قوموں کے معبودوں کی حقیقت خوف اور امید کے اندر پوشیدہ ہے اور شرک پیدا بھی اسی طرح ہوتا ہے اور انہوں نے جس چیز کو مفید سمجھا یا اسے اپنے لئے مضر پایا جھٹ اس کو دیوتا اور معبود بنالیا۔تربیت کا پانچواں مرحلہ: میںنے ان امور پر غور کیا اور اپنے آپ کو محتاج پایا اور دیکھا کہ مضر اشیاء کی تکلیف سے بچنے کی ضرورت ہے اور مفید سے فائدہ اٹھانے کی حاجت مگر یہ چیزیں بجائے خود کچھ ہستی نہیں رکھتی ہیں۔حقیقی سکھ اور دکھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نیچے ہے اور وہی تمام طاقتوں کا مالک ہے اس سے میرے دل میں ایک اور جوش پیدا ہوا اور اس لا الٰہ الا اللّٰہ کے وظیفہ نے ایک اور سیڑھی عطا کی جو دعا کی سیڑھی ہے اور میں بڑے یقین کے ساتھ اس نکتہ پر پہنچ گیا کہ ایک ہی ہے جو سب کچھ کرنے والا ہے پھر کیوں اسی کے سامنے اپنے مطالب کو پیش نہ کروں۔بڑے زور کے ساتھ یہ تحریک میرے دل میں آئی کہ اسی سے مانگنا چاہئے جس چیز کی حاجت ہو۔اس کے بعد ایک اور کتاب نے مجھے بہت مدد دی اور اگر میں اس کا نام نہ لوں گا تو یہ بڑی بھاری ناشکری ہوگی۔اس کا نام تقویۃ الایمان کا حصہ اول ہے۔پھر تیسری کتاب رفاہ المسلمین نے میری ایمانی کیفیت کی آبپاشی کی اور لاالٰہ الا اللّٰہ پر میرا ایمان بہت ہی قوی ہوگیا۔یہ فضل الٰہی تھا۔الحمدللّٰہ علٰی ذٰلک۔جب دعا کے لئے میرے دل میں جوش پیدا ہوا تو میں نے دیکھا کہ دعا مانگتے مانگتے اس میں توجہ اور عقد ہمت پیدا ہونے لگا اور اسی حالت میں مجھے ایک مطلب پیش آیا۔میں نے استاد سے عرض کیا کہ اس