خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 273 of 660

خطابات نور — Page 273

پہلی تقریر ابتداً آپ نے اپنے تعلقات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے مخلوق سے بے نیاز کردیا ہے۔میری حاجتوں اور ضرورتوں کا وہ خود کفیل ہے اور ذمہ وار ہے اور ایسے طریق پر میری مدد کرتا ہے کہ دوسرے سمجھ بھی نہیں سکتے۔اس سے تم لوگ سمجھ سکتے ہو کہ میرا تمہیں نصیحت کرنا محض خدا کی رضا کے لئے ہے اور نیز اسی ذمہ داری کی وجہ سے جو مجھ پر تم لوگوں نے آپ ہی رکھ دی ہے۔بہرحال میں یہ ظاہر کرتا ہوں کہ میں محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اور اس کی مخلوق پر شفقت کی غرض سے تمہاری بھلائی کے لئے کہتا ہوں جو کچھ کہتا ہوں۔آج کل تم دیکھتے ہو کہ بعض ناعاقبت اندیش لوگوں نے طالب علموں سے کس کس قسم کے خطرناک کام لئے ہیں۔وہ طالب علم یا ان کے وہ لیڈر اور سرپرست اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے اس کی مخلوق پر شفقت کی تعلیم ان کو دی گئی ہوتی تو اس قسم کی کمینہ اور پاجی پن کی حرکات ان سے سرزد نہ ہوتیں جن کو وہ اپنے اور اہل ملک کے لئے مفید اور بہتر یقین کرتے ہیں۔یہ امور ملک کی بہتری کی بجائے اس کے لئے سخت مضر اور نقصان رساں ہیں۔ایسی حرکات محض اس لئے ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایتوں پر عمل نہیں۔میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ اس قسم کی شرارتوں سے بالکل الگ اور بیزار رہنا چاہے۔اسلام فرمانبرداری کا نام ہے اور حاکم وقت کی اطاعت ضروری ہے۔اس کے لئے ہمارا امام ہمیشہ یہی تعلیم دیتا رہا ہے۔اس کے بعد تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ تمہارا فرض ہے کہ تم سچے وفادار اور سچے مسلمان بنو۔قرآن مجید نے دو بچوں کا ذکر کیا ہے۔ایک حضرت اسماعیلؑ کا، دوسرے حضرت یوسفؑ کا۔حضرت اسماعیلؑ ایک نوجوان تھے۔ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رویا میں دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو ذبح کرتے ہیں۔اس خواب کا اظہار انہوں نے اسماعیل سے کیا۔انہوں نے ان کو کیا کہا۔اے میرے باپ! جو کچھ آپ کو حکم ملا ہے جلد کرو۔آپ مجھے انشاء اللہ صابر پائیں گے۔خدا تعالیٰ کی رضا اور باپ کی اطاعت میں سر رکھ دیا اور یہی وفاداری اور فرمانبرداری ہے۔