خطابات نور — Page 194
(صلی اللہ علیہ وسلم )جو مکّہ میں مبعوث ہوا تھا پس اس وقت وہی احمد اپنے بروزی رنگ میں آیا ہے دیکھنے والے دیکھتے ہیں جن کو توفیق نہیں ملی وہ نہیں دیکھ سکتے۔قرآن شریف سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام ذکر بھی ہے اور جیسے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ویسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا بھی وعدہ فرمایا تھا۔(المآئدۃ :۶۸) اور عجیب بات ہے کہ یہی وعدہ حضرت مسیح موعود سے بھی ہواہے ان ساری آیتوں پر غور کرنے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ صحیح ہے کہ ذکر سے مراد اس آیت میں جمعہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بعثت ہے جو بروزی رنگ میں مسیح موعودؑ کی صورت میں ہوئی۔۱۴؎ یہ وہ ذکر ہے جو آخری خلیفہ کہلاتا ہے یہ وہ راہ ہے جو صراط مستقیم ہے۔پس اس طرف آجاؤ اور اس وقت دجالی تحریکوں کی طرف نہ جاؤ۔اس صراط مستقیم کی طرف آنے یا اس ذکر کی طرف متوجہ ہونے کا اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ مان لیا کہ وہ حق ہے اورخدا کی طرف سے آیا ہے۔یہ ایمان زندہ ایمان نہیں کہلاتا جب تک اس میں عمل کی روح نہ ہو یہ بالکل سچ ہے کہ ایمان بدوں عمل کے مُردہ ہے۔میں نے جس وقت حضرت امام کے منہ سے یہ سنا کہ تم میں سے بہت ہیں جو اس چشمہ پر پہنچ گئے ہیں جو زندگی کا چشمہ ہے مگر ابھی پانی نہیں پیا۔ہاں منہ رکھ دیا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جس وقت سے میں نے یہ سنا ہے میں بہت ہی ترساں ہوں اور استغفار پڑھتا رہا ہوں کہ خدا نہ کرے کہیں وہ میں ہی نہ ہوں۔لا الٰہ الا اللہ کے کہنے میں ہم سب یہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود، محبوب اور مطاع نہ ہوگا اور کوئی غرض و مقصد اللہ تعالیٰ کے اس راہ میں روک نہ ہوگی۔اس امام نے اس مطلب کو ایک اور رنگ میں ادا کیا ہے کہ ہم سے یہ اقرار لیتا ہے دین پر دنیا کو مقدم کروں گا اب اس اقرار کو مدِّنظر رکھ کر اپنے عمل درآمد کو سوچ لو کہ کیا اللہ تعالیٰ کے احکام اور اوامر و نواہی مقدم ہیں یا دنیا کے اغراض ومطالب۔اس اقرار کا منشا یہ ہے کہ ساری جز ئیں اللہ کے خوف کی اور حصول مطالب کی امید کی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ رہیں یعنی خوف ہو تو اسی سے امید ہو تو اسی سے وہی