خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 660

خطابات نور — Page 122

طرف سے یہ صدا پہنچی (الانفال :۳۷)۔تیرے مقابلہ میں یہ صنادید مکہ بڑے بڑے مدبر اور منصوبہ باز مال خرچ کریں گے۔ پھر یہ سارا مال ان کے لئے حسرت و افسوس کا موجب ہوگا۔افسوس تو اس لئے ہوگا کہ مال بھی خرچ کیا اور ناکامی کا داغ بھی لگا۔مگر یہاں تک ہی انتہا نہیں ابھی ایک اور ذلت ان کے لئے باقی ہے۔۔پھر مغلوب ہوکر ذ ّلت کی موت مریں گے۔اب دیکھو حالت تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں پوری آزادی کے ساتھ کھل کر نکل نہیں سکتے اور نکلے ہیں تو شہر سے باہر ایک ایسے غار میں جو خطرناک جگہ ہے چھپے ہیں۔اس پر یہ دعویٰ ہے کیا معنی۔تیرے یہ دشمن ذلت اور ناکامی اور حسرت کی موت مریں گے۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ اللہ جلّ شانہٗ کی وہ ذات پاک ہے کہ جس پر وہ راضی ہوجاوے اس کی بات عظیم الشان بات دکھلاتی ہے لیکن اگر وہ راضی نہ ہو تو اس کی کوئی محنت اور کوشش کام نہیں دیتی۔یہی وجہ تھی کہ وہ مخالف اپنی اولاد، مال، سب رسم و رواج۔سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے بیٹھے۔پھر دیکھو کس زور سے اذان میں کہا جاتا ہے اللّٰہ اکبر یعنی اللہ تعالیٰ ہر گھمنڈی کا گھمنڈ توڑ سکتا ہے۔ہر شیخی باز اور ہر منصوبہ ساز کے بدارادہ کو اظہار سے پہلے ہی تباہ کرسکتا ہے۔اس بھید کی کلید یہ آیت ہے۔جو میں نے پڑھی ہے۔(اٰل عمران :۱۰۳) یعنی مومنو! اللہ تعالیٰ کو اپنا ِسپر بنائو۔دکھوں سے بچنے کے لئے اور مشکلات اور مصائب سے رہائی پانے کے لئے یہی ایک گُر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا سپر بنالو۔وہ اگر حامی اور مددگار ہو تو پھر کوئی دشمن باقی رہ نہیں سکتا۔وہ سب کو ناکام اور نامراد کردے گا لیکن اب یہ غور طلب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سپر کس طرح بنایا جاوے۔ایک آدمی منہ سے تو کہتا ہے کہ اے اللہ تو مجھ کو بچا۔پھر دل میں برُے برُے منصوبے باندھتا ہے اور ایک اور شخص ہے جو دل سے منصوبے نہیں باندھتا لیکن زبان سے بھی کچھ نہیں کہتا۔یہ کوئی طریق سپر بنانے کا نہیں ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔جو سپر بنانے کا حق ہے۔اس طرح پر سپر بنائو۔سپر بنانے کا حق یوں ہوتا ہے کہ خدا کی رضا کو حاصل کرے۔لیکن اب یہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ رضا حاصل کیونکر ہو؟ انسان جبکہ دوسرے