خطابات نور — Page 121
ہوجاوے گا کہ دنیا میں کس طرح کے لوگ آئے اور کوچ کرگئے۔اس لئے میں اس سے پیشتر کہ ترجمہ کرتا یہ بتلانا چاہتا تھا کہ ہر شخص کے لئے نصیحت اور عبرت موجود ہے مگر ہاں دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان اور غور کرنے والا دل ہو۔بھلوں اور بروں کے نشانات سے جو سبق ملتا ہے۔اس کو عبرت کی نظر سے دیکھو۔سنو! جب کہ یہ بات ہے پھر قرآن شریف جو (التوبۃ :۷۲) کے درجہ پر پہنچانا چاہتا ہے۔یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے۔ایک چوکیدار اگر راضی ہے تو گھر والا کتنے گھمنڈ اور ناز میں رہتا ہے اور اگر ایک ڈپٹی انسپکٹر پولیس اس کا حامی ہو تو پھر اپنے آپ کو کیا کچھ سمجھتا ہے۔تم نے بھی بہت سے لفظ سنے ہوں گے۔اچھے اچھے متین کہہ اٹھتے ہیں فلاں شخص ہمارا دوست ہے اس کو کہہ کر فلاں کو گرفتار کرا دیں گے۔نوکری کے لئے سفارش کردیں گے۔چہ جائیکہ صوبہ کے حاکم یا بادشاہ کے ساتھ تعلق ہو۔پس وہ احکم الحاکمین مولا کریم تو ذرہ ذرہ پر حاکم ہے جہاں واہمہ کی واہمہ بھی برداشت نہیں کرتی کہ اگر وہ راضی ہوجاوے تو کس قدر خوش حالی پیدا ہو سکتی ہے۔اسی بنا پر وہ دعویٰ ہے جو آج بہت سے بھائیوں نے سنا ہوگا کہ دنیا کا نور میں ہوں۔میں دنیا کا فاتح ہوں۔میرا مقابلہ کون کرسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔کیا یہ کوئی انسان باوجود اپنی ہمہ ضعف و ناتوانی کے کہہ سکتا ہے۔جو ذراذرا سی باتوں کا محتاج ہے۔عجز کا تو یہ حال ہے اور طاقت کا وہ نمونہ!! یہ طاقت کہاں سے آتی ہے غور تو کرو اس کا منبع وہی ہے (التوبۃ:۷۲)سارے دنیا پرست ، دنیا کے کتیّ، سارے دنیا کے حکمراں سب اللہ تعالیٰ ہی کی رضا کے محتاج رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اگر حامی و مددگار ہو تو کسی کی دشمنی اثر نہیں کرسکتی۔میں نے وہ آدمی بھی دیکھے ہیں جو دستخط کراتے ہوئے اور کسی کی بھلائی یا برائی کا فیصلہ کراتے ہوئے قلم آگے پیش کیا ہے اور جان نکل گئی ہے۔خدا کی بڑی بڑی عظیم الشان طاقتیں ہیں جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی ہیں۔ایک آن میں لاکھوں لاکھ پیدا کر سکتا ہے اور فنا کرسکتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں بھی ناعاقبت اندیش تعلّی کرنے والے متکبروں نے چندہ جمع کیا اور منصوبہ کیا کہ ہم اس کو نیست و نابود کریں گے اور خاک میں ملا دیں گے۔اس ناتوانی کی حالت میں نبی کریمؐ کو اللہ تعالیٰ کی