خطابات نور — Page 409
نے راستہ میں کسی سے دو پیسہ مانگے اور ان کی روٹی لے کر کسی غریب کو دے دی کسی نے اس سے پوچھا کہ یہ تم نے کیا کیا؟ اس نے کہا کہ مجھ پر غضب الٰہی آیا ہے میں نے صدقہ کیا ہے اور اس سے ٹل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سولی کا تختہ سامنے ہے اب کیا ٹل سکتا ہے۔ادھر کسی نے بادشاہ سے کہا کہ فلاں شخص جس کو پھانسی کا حکم دیا ہے بے گناہ ہے۔بادشاہ نے کہا وہ تو پھانسی مل گیا ہو گا۔اس پر اس نے عرض کیا کہ شاید ابھی نہ دیا گیا ہو چنانچہ بادشاہ نے سوار کے ہاتھ حکم بھیجا کہ پھانسی نہ دو۔جس وقت سوار پہنچا وہ تختہ پر چڑ ھ چکا تھا گو ابھی پھانسی پر لٹکایا نہیں گیا تھا۔اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بچا لیا یہ باتیں بناوٹ کی نہیں ہیں واقعات ہیں۔میں ایسی حالت میں ہوں کہ اپنے اوپر بڑا زور ڈال کر بول رہا ہوں پھر مرنے کی حالت میں جھوٹ بولنے کی مجھے کیا حاجت؟ پس تم یاد رکھو کہ صدقہ غضب الٰہی کو روک دیتا ہے جس کا اثر متعدی نہیں رہا وہ خدا کے آگے گر پڑے اور صدقہ وخیرات دے۔چوتھی بات جو میں سمجھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ مال کے معاملہ کے متعلق بڑی بدگمانی ہوتی ہے یہاں کے کارکن امین ہیں‘ نیک ہیں اگر کسی کی نسبت پیسہ کا جرم لگ جاتا ہے تو وہ چور نہیں ہوتے۔اس لئے تم اپنے مالوں کے لئے مطمئن رہو۔جو مجھے کوئی دیتا ہے اس کے لئے بھی میں امین ہوں۔میں جب چھوٹا تھا تو ایک امیر کبیر ہمارا دوست تھا اس نے ایک لوئی خریدی۔وہ اتنا بڑا مالدار تھا کہ پچاس ساٹھ ہزار روپیہ اس کے پاس زکوٰۃ ہی کا تھا۔میرا دل چاہا کہ لوئی مول لوں۔میں نے خرید تو کی مگر مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے کبھی پہنی ہو۔خریدنا تو اب تک یاد ہے مگر پہننا ہرگز یاد نہیں اور اب تک مجھے اللہ تعالیٰ پشمینہ ہی پہننے کو دیتا ہے۔پس میں اپنی نسبت مطمئن کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مال کا حریص نہیں بنایا۔میرے دل میں مال کی خواہش ہی نہیں ہے۔تمہاری نذریں جو میرے پاس آتی ہیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک تو ایسی ہوتی ہیں کہ میں ان کو لے کر باغ باغ ہو جاتا ہوں۔اس کی دو تین مثالیں بتاتا ہوں۔حافظ معین الدین بڑا ہی مسکین اور مخلص آدمی ہے۔نابینا آدمی ہے کوئی بھائی نہیں‘ باپ نہیں اور رشتہ دار نہیں۔اگلے دن میرے پاس آیا اور تین روپیہ مجھے دئیے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دئیے ہیں اب میرا جی چاہتا ہے کہ آپ ان کی یخنی پیئیں تو طاقت آجاوے گی۔اس کی بے کسی اور نابینا پن کو دیکھو اور اخلاص کو دیکھو میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ مجھے اس کی یخنی پلائو۔