خطابات نور — Page 408
پریذیڈنٹ اور سیکرٹری اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کریں۔آپ جانتے ہیں کہ سورج اور چاند گرہن پر مسلمانوں کے ہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج گرہن اور چاند گرہن ہوتا تو گھبرا جاتے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ قرآن کریم میں ہے (یونس :۶) مگر وہ بہت گھبراتے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ سورج روشن تو رہتا ہی ہے مگر روشنی زمین پر نہیں آتی اسی طرح چاند کی روشنی رک جاتی ہے۔چاند گرہن ۱۳۔۱۴۔۱۵ تاریخ کو ہوتا ہے جو اس کے کمال کے ایام ہیں اور سورج گرہن ۲۷۔۲۸ کو۔باوجود اس علم کے کہ سورج اور چاند روشن ہیں پھر ان کی روشنی رک جاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبراتے اس لئے کہ میں تو مبلغ ہوں کہیں میری تبلیغ کا اثر نہ رک جاوے اس لئے صدقہ کرتے قربانی دیتے دعائیں کرتے غلاموں کو آزاد کرتے۔احمق فلاسفرز اس سرّ کو نہیں سمجھتے۔مگر نبی جانتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں روشن ہے ایسا نہ ہو کہ آفتاب وماہتاب کی طرح ہماری روشنی اور اثر بھی رک جائے۔اس لئے وہ صدقہ وخیرات اور دعائوں سے کام لیتے۔پس خوب یاد رکھو کہ جہاں جماعت کی ترقی رک گئی ہے وہاں پریذیڈنٹ اور سیکرٹری صاحبان وضو کریں۔نماز پڑھیں۔دعائیں کریں اور اپنی ذات سے صدقہ اور خیرات کریں کہ جناب الٰہی خود اس گرہن کو دور کرے اور اس روک کو اٹھا دے جو ان کے اثر کے آگے آگئی ہے۔میں نے اس وقت تک دو باتیں بتائی ہیں اول تنازعہ نہ کرو۔پھر اگر ایسا ہو جاوے تو صبر کرو۔تیسری بات یہ بتائی کہ اگر ترقی رک گئی ہے تو صدقہ وخیرات کرو۔استغفار کرو۔دعائوں سے کام لو تا کہ تمہارا فیضان رک نہ جائے اگر کوئی روک آگئی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے۔میں تم کو صدقہ کا حکم دیتا ہوں اس لئے کہ الصدقۃ تطفی غضب الرب (المعجم الاوسط جزء۷حدیث نمبر۷۷۶۱) صدقہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کے غضب کوبجھا دیتا ہے۔اس کی بہت بڑی کہانیاں ہیں اور میں ان باتوں کو مانتا ہوں کہ صدقہ سے غضب الٰہی دور ہو جاتا ہے۔تم تو مسلمان ہو اس لئے ضرورت نہیں کہ وہ کہانیاں تمہیں سنائوں، ایک بتاتا ہوں۔ایک شخص کو پھانسی کا حکم ہوا اس