خطابات نور — Page 29
ابتلائوں اور مصائب پرصبر {تقریر فرمودہ ۳؍ستمبر ۱۸۹۸ء بعد نماز عصر} وعظ جو مولانا مولوی نور الدین صاحب نے ۳؍ستمبر ۱۸۹۸ء کو بعد عصر اپنے گھر میں کہا۔اس کے بعض بعض حصہ کا اظہار میں امید کرتا ہوں کہ میرے ناظرین اس وعظ کو اپنے گھروں میں سنا کر اپنے اس فرض سے سبکدوش ہوں گے جو (التحریم :۷)کے رو سے ان پر ہے اور الحکم کے پڑھنے سننے والی نیک بیبیاں کوشش کریں گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق دے جواس وعظ میں بیان کی گئی ہے۔(ایڈیٹر الحکم ) اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ‘ وَرَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔۔ ۔۔(البقرۃ :۱۵۶ تا ۱۵۹) ترجمہ: اور ضرور ضرور ہم انعام دیں گے تم کو بدلہ میں تھوڑے خوف اور بھوک اور کمی ہر مالوں اور جانوں اور پھلوں کے۔کیا معنے اگر تم ذرا سا بھی اللہ تعالیٰ سے خوف کرو اور اس کی رضاجوئی کے لئے کسی خوف کی برداشت کرلو اور اللہ کی راہ میں روزہ وغیرہ بھوک کو اختیار کرو۔اموال اور جانوں اور پھلوں کو اس کی راہ میں دے دویا کھو بیٹھو۔اورخوشی کی خبر سنا دو ان مستقل مزاجوں کو جو سکھ اور دکھ دونوں میں اللہ تعالیٰ کو نہیں چھوڑتے بلکہ ثابت کر دکھاتے ہیں کہ ہم اللہ کے اور اسی کی طرف ہمارا جانا ہے۔ایسے لوگ ان کے لئے شاباش ہے اور رحمت، وہی راہ راست پر ہیں۔صبرکا