خطابات نور — Page 316
میں نے اسی وجہ سے اپنے امام کی قبر کو پُرشان نہیں بننے دیا کہ تم غلو نہ کرو۔تم جانتے ہو کہ پہلے مسیح کے سبب سے فتنہ ہوا ہے۔پس اس سے عبرت پکڑو۔میں پھر تمہیں کہتا ہوں کہ تم غلو نہ کرنا۔غلو عقائد میں بھی برُا ہے۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ علم بڑی دولت ہے۔علم کا مزہ اَن پڑھ نہیں جانتے مگر اَن پڑھوں کے سارے مزوں کو پڑھے ہوؤں نے دیکھا ہے۔ہم نے تین شادیاں کیں۔رؤساء کے پاس رہے ہیں۔حکومت کا مزہ دیکھا ہے۔دولت کو کمایا ہے۔میرے ایک دوست تھے مولوی عبدالکریم مرحوم۔انہوں نے خواب میں دیکھا کہ نورالدین جوا کھیلتا ہے۔انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں یہ خواب بیان کیا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ نور الدین کی بابت معلوم نہیں کہ وہ لے گا یا دے گا یعنی اس کے رزق کا معاملہ انسانی فہم سے بڑھ کر ہے۔اسی طرح ایک ہندو نے مجھے کہا کہ تمہارے پاس بہت سا روپیہ ہے۔میں نے کہا کہ ہاں ہے تو سہی۔مگر کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا۔اگر وہ روپیہ بینک میں ہو تو منی آرڈر کے ذریعہ آنا چاہئے۔یہ ایسا علم ہے کہ کسی کو پتا نہیں لگ سکتا۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ خاص فضل کیا ہے کہ وہ خود مجھے دیتا ہے اور جتنا میں چاہتا ہوں یا مجھے مطلوب ہوتا ہے دیتا ہے۔علم عجیب چیز ہے مگر اس میں ایک تو سخت تعمق کرتے ہیں۔جس کو کہتے ہیں کہ ہندی کی چندی نکالتے ہیں تاکہ وہ محیط ہوجاویں۔یہ سخت مضر ہے کیونکہ محیط ہونا تو صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔اس زمانہ میں یہی کوشش کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے عربی دانوں کی بڑی تحقیر کی جاتی ہے جو میں سخت ناپسند کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(اٰل عمران :۶۶) عربی کی طرف تم کو خود بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔اس لئے کہ تمہارے دین کی کتاب جو خدا تعالیٰ کی کتاب ہے۔وہ عربی میں ہے۔خدا تعالیٰ نے اس زبان کو اپنا کلام نازل کرنے کے لئے پسند کیا۔پس ایسانہ ہو کہ اس زبان کے جاننے والوں کی تحقیر کا وبال پڑے۔غرض علم میں تعمق کی بھی حاجت ہے تو اس کے لئے ضرورت ہے انتخابِ کتب کی اور پھر ضرورت ہے انتخاب معلمین کی اور پھر ضرورت ہے عمل کی۔اس سے معرفت پیدا ہوتی ہے۔وہ علم جس کے ساتھ عمل نہیں بیکار ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ آج کل کے علماء (الاماشاء اللہ) مال کے دینے کی لوگوں کو تو سناتے ہیں۔مگر خود خرچ نہیں کرتے۔مگر خدا کا فضل ہے