خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 212 of 660

خطابات نور — Page 212

قرآن کریم اور فضلِ الٰہی کا سائبان (افتتاحِ کالج کی تقریب سے خطاب فرمودہ ۲۸؍مئی ۱۹۰۳ء) اشھد ان لاالٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد انّ محمدًا عبدہ ورسولہ اما بعد ہم تو ہر روز تم کو وعظ سناتے ہیں اورسارا دن اسی میں صرف ہو جاتاہے قرآن شریف کا وعظ بھی خدا کے فضل سے مستقل طور پر جاری ہے مگر اس وقت خصوصیت سے مجھے ارشاد ملا ہے کہ کچھ سنائوں۔تمہید کی ضرورت نہیں ہے اس وقت یہ نظارہ سامنے موجود ہے۔ایک طرف قرآن شریف اور دوسری طرف کرۂ ارض پڑا ہوا ہے پھر اوپر سائبان ہے اور ایک طرف وہ لمبی لکڑی ہے یہی مضمون کافی ہے۔انسان کوخدا نے بنایا ہے اور اس کے اندر اس قسم کی اشیاء رکھی ہیں کہ اگر ان سب کا نشو ونما نہ ہو تو پھر وہ انسان انسان نہیں رہتا ایک ذلیل مخلوق ہو جاتا ہے۔لیکن اگر ان خدا کی عطا کردہ قوتوں کا عمدہ نشوونما ہو تو وہی انسان خدا کا مقرّب بن سکتا ہے اور اس کے یہی ذرائع ہیں جو تمہارے سامنے ہیں۔( قرآن کریم کی طرف اشارہ کرکے )یہ پاک کتاب جب نازل ہوئی اس وقت ساری دنیا میں اندھیر تھا۔عرب خصوصیت سے ایسی حالت میں تھا کہ کل دنیا کا روبراست ہو جانا آسان مگر اس کا سدھر نا مشکل سمجھا جاتا تھا۔یرمیا ہ نبی کے نوحہ میں یہ ایک فقرہ موجود ہے جس میں وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتا ہے کہ تم نے سچے خدا کو چھوڑ دیا۔دیکھو تمہارے پاس عرب موجود ہیں۔وہ جھوٹے خدائوں کونہیں چھوڑ سکتے لیکن یہ ایک کتاب ہے جس نے ان عربوں کو ایسا بنایا اورعزت دی کہ وہ دنیا کے ہادی، مصلح، نور اور ہدایت بن گئے اس کا ذریعہ صرف قرآن کریم ہی تھا جو ان کے واسطے شفا، نور اور رحمت ہوا۔قرآن کریم کا دائیں جانب ہونا تمہارے لئے خوش قسمتی کی فال ہے اور یہ وہی کتاب ہے جو کہ دائیں جانب ہونی چاہیے۔اس سے یہ تفاول ہے کہ تمہارے دائیں ہاتھ میں ہو(کرۂ ارض کی طرف اشارہ کرکے )دوسری طرف یہ ہے جس پر زندگی چل رہی ہے۔کتاب اللہ میں بھی اس کی ترتیب اسی طرح سے ہے کہ اول آسمان کا ذکر ہے تو پھر زمین کا موجودہ ضرورت کے لحاظ سے تم کو اس