خطابات نور — Page 187
ہیں ایلی ایلی لما سبقتانی یہ بھی عبرانی ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں یونانی کو اصل سمجھا گیا حالانکہ یہ زبان عبری کے مقابل میں ردی اور کفر سمجھی جاتی تھی یہاں تک کہ یروشلم میں یونانی کے متعلق کسی نے فتویٰ پوچھا کہ کیا اس کو پڑھ سکتا ہوں تو اس کو یہی جواب دیا گیا کہ رات اور دن کے تما م گھنٹوں میں عبرانی پڑھو۔پھر اس سے جو وقت بچے اس میں یونانی پڑھ لو اب اس سے اندازہ کر لو کہ یونانی کیسی پھیلی ہوئی تھی اور اس سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے تھے۔یوسی فس مورّخ عبری تھا وہ یونانی جانتا تھا مگر اسے یہ عذر کرنا پڑا کہ یونانی حرام ہے۔اچھا آدمی اس کو سیکھ نہیں سکتا یوسی فس مستثنیٰ کیا گیاہے اور اس طرح پر گویا قوم کا کفر کیا گیا ہے۔غرض اس قسم کے مشکلات میں عیسائی قومیں مبتلا ہیں سب سے بڑی مشکل جس کا ابھی میں نے ذکر کیا انجیل کی اصلی زبان کا سوال ہے جس کے حل نہ ہو نے کی وجہ سے اناجیل کی حقیقت بہت ہی کمزور اور بے اصل ثابت ہوتی ہے جب یہ پتا ہی نہ رہا کہ اصل کتاب کس زبان میں تھی؟ تو کتاب کی اصلیت میں کتنا بڑا شک پڑتا ہے!اور یہ ایسی زبردست زد ہے عیسائی مذہب پر کہ اس کا جواب کچھ نہیں دے سکتے۔چونکہ اصل کتاب ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ ترجمہ در ترجمہ ہے اس لئے اور بھی غلطیاں در غلطیاں اس میں واقع ہوگئی ہیں اور اس کا اندازہ کرنا ہی اب قریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ یہ قوم کس قدر غلطیوں میں مبتلا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس کتاب کے متعلق یہی فیصلہ دیا ہے۔ (البقرۃ :۸۰) غرض عیسائی قوم تو ان مشکلات میں مبتلا تھی اور ہے اس لئے اس قوم کو مخاطب کیا جس کا یہ دعویٰ تھاپس ان کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ اور زُعم ہے کہ تم خدا کے محبوب اور ابنا اور اولیا ہو تو پھر الموت کی تمنّا کرو۔اولیاء اللہ نہیں فرمایا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا کہ ایسی قوم کو جو گدھے سے مشابہ ہو چکی ہے اپنی طرف مضاف کرے الموت کی تمنّا کرو۔یہ ایک قولِ فیصل ہے ان لوگوں کے