خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 159 of 660

خطابات نور — Page 159

سورۃ التوبہ آیت ۱۰۰) اور پھر دوسری اور تیسری صدی کو خیر القرون کہا اس کے بعد فرمایا کہ ثُمَّ یَفْشُوا الْکَذِبَ (سنن ترمذی کتاب الفتن باب لزوم الجماعۃ حدیث نمبر۲۱۶۵) اب ایک نادان اور خدا کی سنت سے ناواقف کہہ سکتا ہے کہ آپ کی قوت قدسی معاذ اللہ ایسی کمزور تھی کہ تین صدیوں سے آگے مؤثر نہ رہی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے کو ر باطن کے جواب کے لئے فرمایا۔ آپ کی قوتِ قدسی ایسی مؤثر اور نتیجہ خیز ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد بھی ویسا ہی تزکیہ کر سکتی ہے چنانچہ کا وعدہ فرمایا۔یعنی ایک اور قوم آخری زمانہ میں آنے والی ہے جو بلا واسطہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض اور برکات حاصل کرے گی اور ایک بار اور ہم اسی رسول کی بعثت بروزی کریں گے وہ بعثت بھی اسی کے ہم رنگ ہوگی جو کے وقت تھی۔احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اُمت کے اعمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا ئے جاتے ہیں۔پس سوچو کیسی تڑپ آپ کو پیدا ہوئی ہوگی جب آ پ کو بتایا گیا ہوگا کہ اس قسم کے حاشیے چڑھائے جاتے ہیں جن سے امر حق کو شنا خت کرنا قریباً محال ہوگیا ہے اور وہ باتیں داخل اسلام کر لی گئی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق اور واسطہ نہ تھااس لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ اس معلّم کو دوبارہ بھیج دیں گے کی بعثت کریں گے اس کی توجہ ان پر ڈالیں گے جو کے مصداق ہیں یعنی ابھی نہیں آئے آنے والے ہیں۔۳؎ یہ سنّت اللہ اور استمراری عادت اللہ ہے کہ جب دنیا میں بدی پھیلتی ہے بدی کیسی !لکھے پڑھے بھی بندر سؤر اور عبد الطاغوت ہو جاتے ہیں خدا کا خوف دلوں سے اٹھ جاتا ہے اور انسانیت مسخ ہو کر حیوانیت اور بہیمیت سی ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے تباہ شدہ مخلوق کی دستگیری کے لئے ایک مامور دنیا میں بھیجتا ہے جو آکر ان کی گم شدہ متاع پھر ان کو دیتا ہے اورخبیثوں اور طیب لوگوں میں امتیاز ہوجاتا ہے اس قاعدہ کو مدِّنظر رکھ کر صاف اشارہ ملتا ہے کہ خدا تعالیٰ کس وقت معلّم اور مزکّیکو بھیجتا ہے اس کی شناخت کا کیا طریق اور نشان ہو نا چاہئے ؟ یہ بڑی بھاری غلطی پھیلی ہوئی ہے کہ جب کوئی مامور دنیا میں آتا ہے تو ناواقف اور نادان انسان اپنی کمزور خیالی کے پیمانہ اور