خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 104 of 660

خطابات نور — Page 104

غرض جس جس جگہ ہمارے بھائی رہتے ہیں تو سب سے مقدم اور ضروری کام کم از کم ایک چھوٹی سی مسجد جیسی ممکن ہو بنالو۔اگر سستی کرو گے تو نتیجہ اچھا نہ ہوگا۔غرض پہلی بات نماز ہے نماز پانچ وقت احباب کو جمع کرتی ہے۔یہ تو اس کی ظاہری خوبی اور حسن ہے۔نماز ہی کی خوبی ہے کہ سارے گائوں کے لوگ ایک دن جمع ہوتے ہیں اور نماز ہی کی خوبی ہے کہ کل روئے زمین کے مسلمان مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔نماز ہی کی خوبی سمجھو کہ تم آئے۔یہاں آنے کی یہ غرض نہیں ہونی چاہئے کہ آئیں گے تو ایسا جلسہ ہوگا تقریریں ہوں گی۔یہ تو ایک قسم کے میلے کی بھی صورت ہے۔نہیں بلکہ یہاں آنے کی غرض وہی ہو جو حق سبحانہ‘ تعالیٰ کا منشاء ہے۔وحدت ہو، اخوت ترقی پکڑے اور اصلاح نفس ہو۔ایک مرتبہ مجھے خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ انعام فرمایا (اٰل عمران :۱۰۴)۔یہ نہیں فرمایا احبابا۔اس میں کیا سرّ ہے۔وہ سرّ مجھے یوں سمجھ میں آیا کہ محبوب میں رنج نہیں ہوتا۔بھائیوں میں رنج بھی ہوجاتے ہیں۔کبھی کسی قصور فہم سے کوئی بات سمجھ میں نہ آئی اور ناراض ہوگیا۔اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ فضل الٰہی سے ہی اخوان بن سکتے ہیں۔اپنی کوشش اور محنت سے کچھ نہیں ہوتا۔پس اگر کسی سے کوئی غلطی یا کمزوری ہوجاوے تو اخوت ہی کے رنگ تک رکھو۔یہاں آنے کی ایک بڑی غرض یہ بھی رکھو کہ تمہارے تعلقات باہم مضبوط اور اعلیٰ ہوں اور خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔جناب ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعائوں پر غور کرو کہ ان میں کیا چاہا گیا ہے کہ جناب ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی مربع مل جاوے۔نہیں بلکہ ان کی ساری دعائیں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی ہیں۔غرض یاد رکھو کہ اجتماع پر اللہ تعالیٰ کا فیضان نازل ہوتا ہے۔اس وقت ایک تعارف پیدا ہوتا ہے۔ایک خدمت کا شریک ہوتاہے۔اپنا خرچ کیا۔گھر چھوڑا۔آرام چھوڑا۔منجملہ اغراض کے یہ غرض بھی ہوسکتی ہے کہ اگر گھر چھوڑتے ہیں۔احباب سے جدا ہوتے ہیں، اور اپنے اغراض اور اموال کو خرچ کرتے ہیں۔مشکلات بھی پیش آتی ہیں تو اس میں تو کوئی شبہ اور کلام نہیں ہوسکتا کہ جب ہم یہ سب کچھ محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے برداشت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے مامور اور شکور