خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 660

خطابات نور — Page 77

اس دعا کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان پیدا ہوا اور وہ دنیا کے لئے ہادی اور مصلح ٹھہرا۔قیامت تک رسول ہوا اور پھر وہ کتاب لایا جس کا نام قرآن ہے اور جس سے بڑھ کر کوئی رشد، نور اور شفا نہیں ہے۔یہ دعائوں کے برکات اور ثمرات ہیں۔پھر اس دعا سے کس قدر ثمرات حضرت ابراہیم کی اولاد کو ملے تم خود سوچ سکتے ہو۔بات یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کا خالص بندہ بن <mark>جا</mark>تا ہے اور اس کی ساری نفسانی خواہشوں پر موت آ<mark>جا</mark>تی ہے اور ساری غرض و غایت اللہ کے لئے ہو<mark>جا</mark>تی ہے اور اس کے دین کا جلال ظاہر کرنا اس کا مقصد ہو<mark>جا</mark>تا ہے تو پھر ساری مشکلات اس کی حل ہو<mark>جا</mark>تی ہیں۔دنیا اور اس کے اسباب خود اس کے پیچھے پیچھے دوڑتے ہیں مگر اس کی راہ اختیار کرنے کے واسطے ضرورت ہے قرآن شریف پر عمل کرنے کی۔اور عمل کے لئے پہلے ضروری ہے قرآن شریف کا فہم اور فہم قرآن بجز تقویٰ کے حاصل نہیں ہوتا اور اس کے واسطے م<mark>جا</mark>ہدہ شرط ہے اور یہ باتیں حاصل ہوتی ہیں مامور کی صحبت سے اور صادق کے پاس رہنے سے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے۔(التوبۃ :۱۱۹) اور پھر یہ نصیحت فرماتا ہے کہ تفقہ فی الدین کے لئے اپنی اپنی جگہ سے کچھ آدمی بھیجو جو مامور کی صحبت میں رہ کر وہ فیض حاصل کریں اور پھر واپس اپنی قوم میں <mark>جا</mark>کر تبلیغ کریں تاکہ تم میں خشیت الٰہی پیدا ہو۔بارہا یہ بات میرے دل میں پیدا ہوتی ہے اور جوش اٹھتا ہے کہ لوگ اس ارشاد الٰہی پر کیوں عمل نہیں کرتے؟ تمہیں فخر ہے کہ قرآن فہمی ہم میں ہے مگر یہ فخر <mark>جا</mark>ئز اس وقت ہوگا کہ تم ایک بار اس قرآن کو دستورالعمل بنانے کے واسطے سارا پڑھ لو۔لوگ مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ قرآن شریف کیونکر آسکتا ہے۔میں نے بارہا اس کے متعلق بتایا ہے کہ اول تقویٰ اختیار کرو۔پھر م<mark>جا</mark>ہدہ کرو اور پھر ایک بار خود قرآن شریف کو دستور العمل بنانے کے واسطے پڑھ <mark>جا</mark>ئو۔جو مشکلات آئیں ان کو نوٹ کرلو۔پھر دوسری مرتبہ اپنے گھر والوں کو سنائو۔اس دفعہ مشکلات باقی رہ <mark>جا</mark>ئیں ان کو نوٹ کرو۔اس کے بعد تیسری مرتبہ اپنے دوستوں کو سنائو۔چوتھی مرتبہ غیروں کے ساتھ پڑھو۔میں یقین کرتا