خطابات نور — Page 66
مہاجرین میں خلافت کا راز: میں دنیا کی تاریخ میں جس سے مراد میں انبیاء <mark>علیہ</mark>م السلام کی پاک تاریخ لیتا ہوں بہت سے واقعات اس کی تصدیق میں پیش <mark>کر</mark>سکتا ہوں اور <mark>علم</mark>ی طریق پر بھی خدا کے فضل سے اس کی سچائی ثابت <mark>کر</mark>نے کو تیار ہوں۔مگر ان سب باتوں کو چھوڑ <mark>کر</mark> میں ایک عظیم الشان واقعہ صحابہ کی لائف کا دکھانا چاہتاہوں۔میں ایک عرصہ تک اس سوال پر غور <mark>کر</mark>تا رہا کہ کیا وجہ تھی جو انصار کو خلافت نہ ملی بلکہ خلافت کے اول وارث مہاجر ہوئے اور مہاجرین میں سے بھی ابوب<mark>کر</mark> صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حالانکہ انصار میں سب نے بڑی ہمت کی اور ان کی اس وقت کی امداد ہی نے ان کو انصار کا پاک خطاب دیا لیکن اس کا کیا سرّ ہے کہ بادشاہی اور حکومت کا ان کو حصہ نہ ملا اور پہلا خلیفہ قریشی ہوا۔پھر دوسرا تیسرا چوتھا بھی یہاں تک کہ عباسیوں تک قریشیوں ہی کا سلسلہ چلا <mark>جا</mark>تا ہے۔بنو ثقیفہ میں کوشش کی گئی کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے مگر یہ تجویز پاس نہیں ہوئی اور کسی نے نہ مانا۔آخر مجھ پر اس کا سرّ یہ کھلا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت اپنا کام <mark>کر</mark>رہی تھی۔انصار نے کیا چھوڑا تھا جو ان کو ملتا۔مہاجرین نے ملک چھوڑا، وطن چھوڑا، گھر بار چھوڑا، مال و اسباب۔غرض جو کچھ تھا وہ سب چھوڑا اور سب سے بڑھ <mark>کر</mark> ابوب<mark>کر</mark>ؓ نے ،اس لئے جنہوں نے جو کچھ چھوڑا تھا اس سے کہیں زیادہ بڑھ <mark>کر</mark> پایا۔زیادہ سے زیادہ ان کی زمین چند بیگہ ہوگی جو انہوں نے خدا کے لئے چھوڑ دی مگر اس کے بدلہ میں یہاں خدا نے کتنے بیگہ دی؟ اس کا حساب ہی کچھ نہیں۔پس یہ سچی بات ہے کہ جس قدر قربانی خدا کے لئے <mark>کر</mark>تا ہے اسی قدر فیض انسان اللہ تعالیٰ کے حضور سے پاتا ہے۔حضرت ابراہیم <mark>علیہ</mark> السلام کی قربانی کتنی بڑی تھی۔پھر اس کا پھل دیکھو کس قدر ملا۔اپنی عمر کے آخری ایام میں ایک خواب کی بنا پر جس کی تاویل ہوسکتی تھی حضرت ابراہیم نے اپنے خلوص کے اظہار کے لئے جوان بیٹے کو ذبح <mark>کر</mark>نے کا عزم بالجزم <mark>کر</mark>لیا۔پھر خدا نے اس کی نسل کو کس قدر بڑھایا کہ وہ شمار میں بھی نہیں آسکتی۔اسی نسل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم جیسا عظیم الشان رسول خاتم النبیین رسول <mark>کر</mark>کے بھی<mark>جا</mark> جو کل انبیاء <mark>علیہ</mark>م السلام سے افضل ٹھہرا۔جس کی امت میں ہزاروں ہزار اولیاء اللہ ہوئے جو بنی اسرائیل کے انبیاء کے مثیل تھے اور لاکھوں لاکھ بادشاہ ہوئے۔یہاں تک کہ مسیح موعود جو خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا ہے وہ بھی اسی امت میں پیدا ہوا اور خدا تعالیٰ کا ش<mark>کر</mark> ہے کہ ہم نے