خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 660

خطابات نور — Page 2

قانون گورنمنٹ سے باہر ہے۔گورنمنٹ کا قانون انہیں نہیں روک سکتا۔ایسا قانون مذہب ہے جو ان امور سے ہم کو روکتا ہے۔ہمارے بعض افعال سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ (السجدۃ :۱۹) یعنی مومن اور فاسق ایک جیسے نہیں اپنے معتقدات اور اعمال کے لحاظ سے وہ ایک دوسرے کے مساوی نہیں ایسے ہی ان کے اعمال یکساں نتائج مرتب نہیں کرتے۔یہ ایک مذہب کا ہی قانون ہے جس نے فاسق کوان امور کے لئے بھی مجرم ٹھہرا کر اسے ان کے ارتکاب سے روکا ہے جن کا انسداد گورنمنٹ کے قانون سے باہر ہے۔چنانچہ بعض ایسی سیہ کاریاں بھی ہیں جو اگرچہ عقلاً نقلاً بری نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور اہالیان گورنمنٹ اور ایسے ہی سوسائٹی کے دوسرے افراد اسے کامل بداخلاقی سمجھتے ہیں۔لیکن نہ تو بذات خود گورنمنٹ بحیثیت گورنمنٹ اور نہ افراد سوسائٹی کوئی حکمی انسداد اس کی، بند کرنے کا اپنے پاس رکھتے ہیں مثلاً شراب خوری یا عیاشی جس میں فریقین راضی ہوں ایسے جرائم اور سیہ کاریوں کی انسداد کے لئے اگر کوئی قانون مفید ہوسکتا ہے تو وہ صرف مذہب کا ہی قانون ہے جو نہ صرف ایسے جرائم کو ہی روکتا ہے بلکہ ان خیالات اور خطرات نفس پر بھی اس کی حکومت ہے جو ان جرائم اور کج اخلاقیوں کے محرک ہوتے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب انسان مدنی بالطبع ہونے کی صورت میں ایک قانون کا طبعاً اور مجبوراً محتاج ہے تو وہ قانون صرف شریعت الٰہی ہے جس میں سیاست مدن کی تکمیل کماحقہ ہوسکتی ہے اور یہی شریعت اصلاح انسانی کے لئے اپنے اندر وہ طاقت رکھتی ہے اور اسی شریعت کو انسانی طبیعت پر اس قدر غلبہ ہے جو کسی گورنمنٹ کے قانون کو خواہ اس میں کیسی ہی جابرانہ طاقت کیوں نہ ہو نصیب نہیں۔لہٰذا مذہب میں انسان کو دلچسپی پیدا کرنا گورنمنٹ کے قوانین امن کی حفاظت کی ضرورت سے ہے نہیں بلکہ صدمات سے محفوظ رکھنے کا پہلا باعث ہے۔اس ضروری چیز کے لئے فکر چاہئے۔فکر ہے تو ضرورتوں کے موافق سامان بن جاتا ہے۔اس وقت جب ہمیں طرح طرح کے سامان خدا تعالیٰ نے مہیا کردئیے ہیں تو یہ گویا خدا تعالیٰ کی ناشکری ہوگی اگر ہم ان خدا کی عطاکردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر ان قوانین پر غور نہ کریں جو خدا کی طرف سے مذہب نے مرتب کرکے