خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 552 of 660

خطابات نور — Page 552

جس میں تو پڑھا ہو۔یہاں کوئی لائبریری بھی نہ تھی کوئی ترجمہ کا محکمہ بھی نہیں۔ینابیع الاسلام کے لکھنے والوں نے اور بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کو پختہ کر دیا۔قرآن کریم کو حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی کے مشورہ سے بنایا؟ کوئی تمام زبانوں کا جاننے والا مکہ میں تھا ؟ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے تو نے تو کسی کتاب کو پڑھا ہی نہیں۔یہ مبطل کیا اعتراض کرتے ہیں ؟ علم والے اس بھید کو سمجھتے ہیں اور ظالم تو انکار ہی کرتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسا پاک انسان تھا کہ اپنی پاک قوتوں سے اپنی پاک تاثیرات سے عرب میں وحدت پھیلادی۔جنابِ الٰہی کے نام کو ایسا بلند کیا کہ بلند میناروں پر چڑھ چڑھ کر اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ایک گارڈن پادری تھا مجھ سے بہت ملا کرتا تھا اور احمق اتنا تھا کہ ہر مرتبہ اس کو یقین ہوا کرتا تھا کہ نوردین اب کی مرتبہ ضرور بپتسمہ لے لے۔گا ہمارے گھر کی باسی روٹیاں بھی کھا لیتا تھا۔مجھ سے کہنے لگا یورپ نے کیسی ترقی کی ہے۔میں نے کہا ہم نے تو کوئی ترقی نہیں دیکھی۔کہا آپ نے نہیں دیکھی؟ میں نے کہا ترقی یورپ کر ہی کیا سکتا ہے۔میں نے کہا تو تو عالم اورپادری آدمی ہے میں کہتا ہوں کہ یورپ نے نہ ترقی کی ہے نہ آئندہ کر سکتا ہے۔کہنے لگا یہ بات کیاہے۔میں نے کہا نادان انسان تو خداوند مسیح کو ماننے والا۔بتا تو سہی کہ اکبر کے پرے کیا نام تجویز کر سکتے ہو۔اکبرکے بعد ترقی کر کے کیا دکھلا سکتے ہو اوراس اکبر کو جس طرح ہم مسجد کے میناروں پر چڑھ کر سناتے ہیں۔تم کیا سنائو گے تم سوائے گھنٹے بجانے کے اور کیا جانتے ہو۔اکبر کے لفظ نے ترقی روک دی۔کہنے لگا دیکھو کپڑے کیسے بناتے ہیں۔میں نے کہا جو لاہے بنے۔کہنے لگا کیسے کیسے جہاز بنائے۔میں نے کہا لوہار بنے۔وہ رُک گیا۔میں نے کہا پادری دنیوی ترقی کو مسیح نے کب الٰہی قرب کی ترقی فرمایا ہے۔میں نے کہا انجیل موجود ہے دیکھ لو۔اکبر کے پرے کوئی لفظ نہیں قلم تو ٹوٹ گیا۔تواضع میں تم ہماری ہمسری نہیں کر سکتے۔ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں۔اب اس سے نیچے اور کہاں جائیں جہاں تک ہماری طاقت تھی ہم نیچے گر گئے اس سے زیادہ تم کیا کرو گے پھر ہمارے الفاظ کو دیکھو۔سبحان ربی الاعلٰی۔سبحان ربی العظیم۔سبحان سے آگے پاکیزگی کے لئے کونسا لفظ ہو سکتا ہے۔وہ سن سن کر بھوچکا سارہ گیا۔(البقرۃ:۲۵۹)یاد رکھو جو