خطابات نور — Page 536
کرتا ہے۔اسی واسطے بعض بدکاروں کے کبھی بڑی نیک اولاد پیدا ہوتی ہے کیونکہ وہ ملامت کے ساتھ ہوتی ہے۔اگر انسان مَلِک کی اس تحریک کو مان لے تو مَلِک کو اس سے تعلق ہو جاتا ہے۔وہ فرشتہ اپنے حلقہ کی تمام نیکیاں تحریک کرتا ہے۔پھر وہ ایک دوسرے فرشتہ سے جو اس کا قریب کا ہوتا ہے تعلق کراتا ہے کہ تم بھی اس کو تحریک کرو۔یہاں تک کہ ایک حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کسی آدمی کا اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھتا جاتا ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کرو۔اس طرح جبرائیلی رنگ کی مخلوق سے تعلق اور قبولیت کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔اب وہ قصہ ایک کہانی کی طرح ہو گیا۔بدظنی مت کرو، بڑائی، شیخی اور فخر کے لئے نہیں تحدیث نعمت کے لئے کہتا ہوں کہ میں نے خود ایسے فرشتوں کو دیکھا ہے اور انہوں نے ایسی مدد کی ہے کہ عقل، فکر، وہم میں نہیں آسکتی اور انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ دیکھو ہم کس طرح اس معاملہ میں تمہاری مدد کرتے ہیں۔انبیاء ،اولیاء، غوث، ابدال کی پاک جماعت کا فرمانا اس معاملہ میں خلاف ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔جس طرح گندا کوڑا کرکٹ اعلیٰ مقامات میں جا کر اچھا ہو جاتا ہے اسی طرح اچھی صحبت میں گندہ انسان اپنی حالت کو تبدیل کر لیتا ہے۔اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (التوبۃ :۱۱۹) راستبازوں کا ساتھ ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔وہ خشن پوش عرب جو سوائے اونٹ چرانے کے کچھ نہیں جانتے تھے جب انہوں نے دنیا میں اسلام کا نور پھیلایا تو کس طرح خدا ئے تعالیٰ نے ان پر فضل وکرم فرمایا اور انہوں نے کیسی عزت حاصل کی۔وہ صحبت کا نتیجہ تھا۔یہ نہ کہو کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے خزانے خشک ہو گئے۔یہ جناب الٰہی پر بدظنی ہے۔خدائے تعالیٰ کے فضل ورحمت میں کبھی کوئی نقص نہیں۔قرآن کریم میں جہاں کہیں نیک آدمی کا ذکر آتا ہے آگے فرماتا ہے (الانعام :۸۵) ہر ایک محسن کے لئے ایسی ہی جزا ہے خدائے تعالیٰ کی رحمت کے خزانہ میں کوئی کمی نہیں، کوئی دریغ اور مضائقہ قطعاً نہیں۔یاس اور نا امیدی خود بڑا خطرناک گناہ ہے۔طالب علمی میں ہمارے ایک دوست تھے ہم کو ان پر بڑا حسن ظن تھا جتنے ہم ان کے ساتھ پڑھتے تھے ان کو بہت ہی نیک خیال کرتے تھے۔حضرت صاحب کے دعوے کے وقت وہ مجھ کو ملے۔میں نے کہا آپ نے مرزا صاحب کی آواز سنی ہے؟ کہنے لگے ہاں