خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 50 of 660

خطابات نور — Page 50

اگر وہ مرغی کے پروں کے نیچے آکر اس کی حرارت سے حصہ نہیں لیتے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ان کو چیلیں اور دوسرے جانور ہی کھا جائیں گے۔غرض یہ تو سچ ہے کہ مادہ نشوونما پاتا ہے لیکن تعلق کے ساتھ۔اسی طرح پر جب دنیا دار قومیں جب کوئی انجمن یا سوسائٹی بناتی ہیں اور مل کر کوئی کام کرتے ہیں اس وقت باوجود یکہ کثرت رائے پر فیصلہ ہوتا ہے لیکن اس پر بھی ان کو اپنا ایک میر مجلس یا پریذیڈنٹ منتخب کرنا پڑتا ہے اور اس کا فیصلہ قطعی اور آخری فیصلہ ہوتا ہے۔جمہوری سلطنتوں کو بھی پریذیڈنٹ کی ماتحتی ضروری ہوتی ہے باوجودیکہ وہ بڑے آزاد رائے اور آزادی پسند ہوتے ہیں پھر جب عام نظارۂ قدرت اور موجودات میں وحدت ارادی کے پیداکرنے کی ضرورت ایک عام ضرورت سمجھی جاتی ہے اور انسان کی مادی ترقیات کی جڑ میں بھی وحدت ارادی کی روح کام کررہی ہے پھر کیسا نادان اور بے وقوف ہے وہ انسان جو علوی اور روحانی امور میں اس کی ضرورت نہیں سمجھتا۔نظارہ وحدت کا معراج : میں نے اس مسئلہ پر گھنٹوں اور منٹوں سے لے کر دنوں اور ہفتوں بلکہ مہینوں اور سالوں تک غور کی ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ جس قدر میں اس مضمون پر سوچتا گیا ہوں خالص ذوق اور سرور کے ساتھ اس کی باریک باتیں مجھ پر کھلتی گئی ہیں۔یہاں تک کہ اس وحدت کے نظارہ میں میں اوپر چڑھتا گیا اور میں نے دیکھا کہ واحد لاشریک خدا کے لئے وحدت کا نظارہ ضروری ہے۔خدا جو اسماء حسنیٰ کا مرکز ہے اگر اس کی صفات پراگندہ ہوتیں تو خدائی ہی نہ چلتی۔اسی طرح پر وہ جامع جمیع صفات کاملہ ہستی چاہتی ہے کہ اجزاء متفرقہ کا جو مجموعی طور پر ہیں اتحاد ہو۔کشش: یہی وجہ ہے کہ کشش اتصال کا وجود اس نے رکھا ہے جو ذرات متفرقہ کو باہم ملاتی ہے۔انفرادی حالت میں فیوض و برکات کا نزول نہیںہوتا بلکہ اس میں بھی توسط کی حاجت ہوتی ہے۔یہ کشش قابل جوہروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ان کو ان منافع اور برکات کا وارث ٹھہرا رہی ہے جو اتحاد سے پیدا ہوتی ہیں۔جس طرح پر امور مادی میں میں نے یہ ضرورت دکھائی ہے۔آسمانی اور روحانی معاملات میں بھی ایک صاحب کشش امام کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ