خطابات نور — Page 535
(البقرۃ : ۲۵۹) معلوم ہوا خدا ئے تعالیٰ کی بات تو بڑی ہے نفس مخلوق پر بھی لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ایک شخص نے مجھ سے کہا مخلوق ہر آن میں تباہ ہو جاتی ہے۔میں نے اس سے بہت باتیں پوچھیں مگر کوئی حقیقت تک پہنچانے والی بات اس کے منہ سے نہ نکلی۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ انسانی جماعت میں اس پاک گروہ کے بھی لوگ منکر ہیں جن کو انبیاء علیہم السلام کہتے ہیں اور جن کے سبب سے دنیا میں بڑے بڑے عیش اور امن اور راحتیں قائم ہیں۔برہمو لوگ انبیاء کی پاک جماعت کے منکر ہیں۔ایک برہمو نے مجھ سے کہا کہ دیکھو ہم بڑے پریم اور نرمی سے بات کرتے ہیں۔میں نے کہا تم بڑے ظالم ہو۔کہا کبھی آریوں کو بھی سنا ہے؟ میں نے کہا آریہ تم سے بہت نرم ہیں۔کہا مسلمان؟ میں نے کہا وہ تو تمہاری نسبت بہت ہی نرم ہیں۔کہنے لگا ہماری پلیدی بتائو؟ میں نے کہا سچائی پھیلانے اور سچ قائم کرنے کے لئے دنیا کے ہر پردہ پر نبی آئے ہیں اور انہوں نے صداقت کو قائم کرنے کے لئے اپنی جانیں ہلاکت میں ڈالیں اور بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کیں۔تم نے ایسا غضب ڈھایا کہ ان کو کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے باتیں نہیں کرتا۔کیسا ظلم ہے کہ تم کہتے ہو یا انہوں نے (انبیاء نے) جھوٹ بولا، یا دھوکا کھایا یا دوسروں کو الّو بنایا یا مصلحت عامہ کا خیال کیا۔میں نے کہا تم نے نبیوں کے حق میں جھوٹ بولنے، دغا بازی کرنے، دھوکا دینے کے الزام لگائے اور پھر کہتے ہو ہم بڑے نرم ہیں۔کہنے لگا پہلے تو ہم نے کبھی اس باریک بات کا خیال ہی نہیں کیا۔میں نے کہا اب خیال کر لو۔کہا ہاں بات تو زبردست ہے۔میں نے کہا اچھا اب مانتے ہو؟ کہنے لگا نہیں بات کچھ ایسی ہی ہے۔میں نے کہا تم ملائکہ کے ماننے کو شرک سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ ملائکہ کا ماننا مشرکانہ اعتقاد ہے حالانکہ ملائکہ کا ماننا بڑا پاک اعتقاد ہے۔وہی راستباز اور پاک جماعت کہتی ہے کہ ہم سے ملائکہ نے باتیں کیں، ملائکہ ہم سے ملے، ملائکہ نے ہم کو فائدے پہنچائے اور تم ان کو جھوٹا کہتے ہو۔ایمان بالملائکہ کا ایک نکتہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے۔میں نے بارہا اپنے دوستوں کو سمجھایا ہے لیکن لوگ بھلی بات کی طرف توجہ کم کرتے ہیں۔کوئی وقت ہوتا ہے اور موقع نیکی کا ہوتا ہے اس وقت فرشتہ انسان کو نیکی کی تحریک کرتا ہے اور بدکاروں کو فرشتہ کبھی بدکاری کے وقت ملامت