خطابات نور — Page 534
کہتے ہیں پتا نہیں لگتا کہ دنیا کیا ہے؟ لاہور میں حضرت صاحب سے سید مٹھا میں ایک شخص مباحثہ کرنے آیا۔اس نے کہا مجھ کو کوئی شخص ہرا نہیں سکتا کیونکہ تم جو دلائل دیتے ہو ہم ان دلیلوں کے بھی قائل نہیں۔میں بھی دور سے سنتا تھا تھوڑی دیر کے بعد وہ اٹھا۔میں نے باہر جا کر اس سے کہا کہ آپ جیسے آدمیوں کے عقائد کا حال میں نے کتابوں میں پڑھا ہے مگر کوئی آدمی دیکھا نہیں تھا۔اب آپ کو دیکھ کر میں خوش ہوا ہوں اور آپ سے ملنا چاہتا ہوں لیکن معلوم نہیں آپ کا دفتر کہاں ہے۔میرا جی چاہتا تھا کہ اس کو ابھی ہلاک کر دوں۔اس نے کہا کوڑی باغ میں ہمارا دفتر ہے۔کوئی آدمی انار کلی سے سیدھا فلاں سمت کو چلا جائے تو وہاں پہنچ جاتا ہے۔میں نے اپنے دل میں سمجھا کہ یہ احمق ہے، میں نے اس سے کہا کہ آپ وہاں کَے بجے جاتے ہیں؟ کہنے لگا کہ میں وہاں دس بجے جاتا ہوں۔میں نے سوچا کہ اب اس کو آگے چلانے کی ضرورت نہیں۔تب میں نے کہا بابو صاحب جیسے دس بجے دن کے ویسے دس بجے رات کے۔جیسے دن کے بارہ بجے ویسے رات کے۔جیسے انار کلی جیسے راوی کا دریا جیسا شاہدرہ جیسا کوڑی باغ۔کیا آپ ہم لوگوں کی ہی طرح دس بجے نکلتے ہیں؟ کیوں آپ انار کلی سے کوڑی باغ میں ہی جا کر ٹھہرتے ہیں کبھی راوی کی طرف جا کر شاہدرہ جا کر ٹھہرا کریں ایک ہی ہے نا!؟ مجھ کو دیکھ کر کہنے لگا میں آپ سے پھر ملوں گا۔میں نے کہا کس جگہ ملو گے؟ پس پھر تو وہ شرمندہ ہو گیا اور چل ہی دیا میں نے دیکھا کہ عملدرآمد کرنے میں وہ ہماری طرح چلتا ہے۔لاہور کا ایک بڑا پنڈت میرے پاس آیا، اس کا بچہ بیمار تھا۔کوچہ بندی تک وہ اپنے بیٹے کی تکلیف بیان کرتا ہوا میرے ساتھ گیا۔اس سے پہلے وہ بیان کر چکا تھا کہ اعتبار کے قابل کوئی چیز بھی نہیں۔مسیح کے قتل کا فتویٰ جب یروشلم میں دیا گیا تو یروشلم میں اتفاق تھا ،اب اس کو ظلم سمجھتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ وہ ظلم تھا یا یہ ظلم ہے۔سقراط کو جب زہر کا پیالہ پلایا گیا تو کوئی نہ بولا اب اس کو اچھا نہیں جانتے۔ہم نہیں جانتے وہ سچے تھے یا یہ سچے ہیں۔میں نے کہا پنڈت جی آپ میرے پاس کیوں آئے ہیں؟ کہا میرا بیٹا بیمار ہے۔میں نے کہا جب قوم کی بات کا آپ کو اعتبار نہیں تو آپ کی بات کا ہم کیسے اعتبار کریں۔کہنے لگا بیٹا کہتا ہے۔میں نے کہا اچھا اب آپ دو ہو گئے۔پھر…