خطابات نور — Page 49
اس وقت جو غذا ان کو اس درخت کی جڑ کے ذریعہ اور پھر اس کے بڑے تنے کے ذریعہ جن کے ساتھ ان کا پیوند ہے پہنچتی ہے وہ بہر حال حصہ رسدی سے پہنچتی ہے لیکن باوجود اس کے بھی وہ شاداب اور سرسبز ہیں۔اب ان میں سے ایک شاخ کو کاٹ لو اور اس کو عین بہار کے موسم میں کاٹ لو جبکہ خشک درخت بھی کوئی نہ کوئی پتا نکال لیتے ہیں اور ایک بڑے تالاب میں اس شاخ کو رکھ دو اور نتیجہ کا انتظار کرو کیا ہوگا؟ وہ شاخ مرجھا جائے گی۔خشک ہوجائے گی آخر سڑ جائے گی اور تھوڑی دیر پہلے درخت کے ساتھ رہ کر انسانی زندگی کے لئے ایک نفع رساں اور راحت بخش ہوا کا ذریعہ تھی۔وہی شاخ اس سے الگ ہوکر مضر صحت مواد اور اسباب پیدا کرنے کا ذریعہ ہوگئی۔باوجود یکہ اسے پہلے سے زیادہ پانی میں رکھا گیا مگر وہ اس کے لئے آب حیات کی بجائے زہر کا کام دے رہا ہے۔اب اس کے ہرے بھرے رہنے اور مثمر ثمرات اور نفع رساں ہونے کی کیا توقع ہوسکتی ہے؟ کوئی نہیں لیکن وہی شاخ جب درخت کے ساتھ اس کا پیوند ہوتا ہے کیسے ثمرات لاتی اور پھل پھول لاکر انسان کے لئے حیوانات کے لئے مفید اور نافع ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بزرگ اور عظیم تنا کے ساتھ کا پیوند ہی اس کے لئے مفید اور مثمر ثمرات ہونے کا باعث تھا اور وہ الگ ہوکر کبھی کوئی مفید شے نہیں ہوسکتی۔۵؎ ضرورت امام : امام کی ضرورت ایک ایسی ضرورت ہے کہ اس سے کوئی سلیم الفطرت تو انکار نہیں کرسکتا ہاں جو انکار کرتا ہے وہ اپنے آپ کو کیسا ہی دانش مند تجربہ کار نیک سمجھتا ہو لیکن میں اس کو سب سے بڑھ کر بے وقوف ناواقف اور خطاکار قرار دوں گا کیونکہ وہ بدیہی باتوں سے انکار کرتا ہے۔درخت کی مثال سے میں بتاچکا ہوں کہ کس طرح پر ٹہنیوں کو سرسبز و شاداب رہنے اور بار ور ہونے کے لئے درخت کے ساتھ حقیقی پیوند ضروری ہے۔اپنی نظر کو ذرا اور وسیع کرو اور ریل گاڑی کی طرف دیکھو۔ایک ٹرین جس میں سٹیم انجن نہ لگا ہوا ہو اور اس میں خواہ کیسی ہی مصفا اور شاندار گاڑیاں لگی ہوئی ہوں لیکن سٹیم انجن کے نہ ہونے کے سبب ان میں کوئی حس و حرکت پیدا نہیں ہوگی اور وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچیں گی۔حیوانات پر غور کرو۔مرغی کے بچے اگر متفرق کردئیے جاویں تو خواہ ان کو کیسی ہی غذا دو لیکن